ایک اچھا فیصلہ

پاکستان اس وقت داخلی طور پر کئی چیلنجز سے نبٹ رہا ہے۔ ان چیلنجز میں دہشت گردی ، منی لانڈرنگ ، ڈرگ ڈیلرنگ سمیت کئی چیلنجز شامل ہیں۔


[email protected]

پاکستان اس وقت داخلی طور پر کئی چیلنجز سے نبٹ رہا ہے۔ ان چیلنجز میں دہشت گردی ، منی لانڈرنگ ، ڈرگ ڈیلرنگ سمیت کئی چیلنجز شامل ہیں۔ ان چینلجز سے نبٹنے میں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کلیدی کردار ہے وہاں حساس اداروں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں ان چینلجز سے نبٹنے میں پہلا کردار حساس اداروں کا ہے۔ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار ہے۔ جب حساس ادارے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے وطن دشمن سرگرمیوں کا نیٹ ورک توڑتے ہیں توقانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔

اس ضمن میں پاکستان میں متعدد حساس ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں عسکری حساس ادارے بھی شامل ہیں اور سول حساس ادارے بھی شامل ہیں۔ عسکری حساس اداروں میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے ادارے شامل ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جب کہ وفاقی حکومت کا ایک سول حساس ادارہ آئی بی ان تمام چیلنجز سے نبٹنے کے لیے خاموشی سے کام کر رہا ہے۔ شائد بہت کم لوگ جانتے ہوں لیکن گزشتہ چار سال میں اس نے اپنی کارکردگی میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن کی وجہ سے آئی بی کو قومی سطح پر ایک ممتاز اور اہم مقام حاصل ہوا ہے، ان کے کام خاموش ہیں۔ ہم ان کو کم جانتے ہیں۔ لیکن میں نے سوچا ان پر بھی لکھنا چاہیے۔

آپ سب کو علم ہوگا کہ گزشتہ سال ایس سی او کی ایک ہم سمٹ پاکستان میں منعقد ہوئی۔ جب ایس سی او ممالک کے وزراء اسلام آباد میں موجود تھے۔، یہ پاکستان کی سفارتکاری کے لیے اہم موقع تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان میں ایک موقع ہو اور پاکستان کے دشمن اس موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ ویسے تو آپ سب کو یہ بھی یاد ہوگا کہ اس موقع پر تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ بعد میں جب تحریک انصاف کو احساس دلایا گیا کہ یہ موقع احتجاج کرنے کا نہیں ہے تو انھوں نے موخر کر دیا۔

ادھر پاکستان کے دشمنوں نے اس اہم موقع پر اسلام آباد میں خود کش حملوں کا ایک منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ آئی بی کے انٹیلی جنس نیٹ ورک نے بروقت اس منصوبے کا پتہ چلایا۔ سہولت کاروں کی نشاندہی کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت گرفتاریاں کیں اور یہ ممکنہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ویسے تو جب دہشت گردی ہو جائے تو ہم سب سوال کرتے ہیں کہ کیسے ہو گئی۔ حساس اداروں نے بروقت انٹیلی جنس کیوں نہیں فراہم کی۔ لیکن جب ایسی کامیابیاں ملتی ہیں تو ہم ان کو وہ عزت بھی نہیں دیتے جو دینی چاہیے۔

اسی طرح گزشتہ سال 2025 میں یوم دفاع کے موقعہ پر بھی دشمن نے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں تقریب کاری کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کو آئی بی نے ہی ناکام بنایا۔کئی سہولت کاروں، کمانڈرز اور ایک افغان خود کش بمبار کو بھی زندہ گرفتار کیا گیا۔ جس سے آگے بہت کامیابیاں ملیں۔ اسی طرح آپ سب کو یاد ہوگا کہ اسلام آباد جیوڈیشل کمپلیکس میں دشمن خود کش حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

اس حملہ میں کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں۔ اس واقعہ کے بعد آئی بی نے بروقت کارروائی کر کے خود کش بمبار کے سہولت کاروں کو صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا۔ جس سے باقی نیٹ ورک توڑنے میں مدد ملی۔ سندھ میں راء سے منسلک ایک بڑے نیٹ ورک کو بھی آئی بی نے ہی پکڑا۔راء کا یہ گینگ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ دہشت گردوں کی مالی معاونت کا کام کرتا تھا۔ یہ راء کا کراچی کا بڑا نیٹ ورک تھا۔

آئی بی کا کام صرف دہشت گردی کے نیٹ ورک تک محدود نہیں۔ بلکہ آج کل جس ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا ملک بھر میں بہت شور ہے۔ اس نیٹ ورک کو بھی آئی بی نے پکڑا۔ اس کی تمام تفصیلات اور ثبوت آئی بی نے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے ہیں۔ اس ضمن میں لاہور میں جو افریقی ڈرگ ڈیلر اے این ایف نے پکڑے ہیں وہ بھی آئی بی کی اطلاعات پر پکڑے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں کچے علاقے کو ڈاکوؤں سے پاک کرنے کا آپریشن بھی آئی بی کے تعاون سے ہی کیا گیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کچے کا علاقہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج تھا۔ اس نیٹ ورک کو توڑنے میں بھی آئی بی نے مرکزی کردار ادا کیا جس کا حکومتی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں معاشی دہشت گردی بھی موجود ہے۔آئی بی نے مشکوک کرنسی ایکسچینج کی نشاندہی ، ہنڈی کے نیٹ ورکس کو توڑنے ، منی لانڈرنگ کو توڑنے میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی ، کھاد کی اسمگلنگ ، ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے خلاف بھی آئی بی نے بہت آپریشن کیے ہیں، جن کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ میں جب پاکستانی کشتیوں کے حادثوں میں جان سے جا رہے تھے تواس گینگ کے سربراہ عثمان ججا کو بھی آئی بی نے ہی پکڑنے میں مدد کی تھی۔

گزشتہ چار سال میں آئی بی کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ پہلی دفعہ آئی بی کو آئی بی سے ہی سربراہ دیا گیا۔ ورنہ پہلے باہر سے افسران کو سربراہ لگایا جاتا تھا۔ جن کو آئی بی کے سروس سٹرکچر اور وہاں کام کرنے والے افسران کا کم ہی علم ہوتا تھا، اس لیے شائد ماضی میں آئی بی کی اس طرح کارکردگی بھی ایسی نہیں رہی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے 2022 میں وزیر اعظم بننے کے بعد آئی بی کے ہی افسر فواد اسد اللہ خان کو ڈی جی لگا دیا۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ ادارے کے افسر کو ہی ڈی جی لگایا گیا۔ فواد اسد اللہ خان نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے آئی بی کیرئیر شروع کیا اور ان کا چالیس سال کا کیرئیر انٹیلی جنس کا ہی ہے۔ ان کا جینا مرنا آئی بی ہی رہا۔ مختلف حکومتوں اور مختلف ادوار میں انھوں نے اپنی زندگی آئی بی کو ہی دی ہے۔

مختلف حکومتوں نے ان کے کام کے اعتراف میں انھیں تمغہ شجاعت، ستارہ شجاعت اور اب معرکہ حق میں انھیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ فواد اسد اللہ پاکستان کی انٹیلی جنس کا ایک شاندار افسر ہے۔ جس نے بلا شبہ پاکستان کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ وہ ایک ایسا افسر جس کو آپ اور ہم تو بہت کم جانتے ہیں لیکن پاکستان کے دشمن اس کو خوب جانتے ہیں۔ وہ ہمارے دشمنوں کو کانٹوں کی طرح چبھتا ہے۔ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی اس وقت یہ پالیسی ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے حساس اداروں میں تسلسل کی پالیسی کو لے کر چل رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اب ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ خان کی مدت ملازمت میں بھی ان کے شاندار کام کو دیکھتے ہوئے چار سال کی توسیع کی گئی ہے۔ میری رائے میں یہ اب فواد اسد اللہ خان کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔ انھیں اب زیادہ کام کرنا ہوگا۔