اردو املا: آواز کی امانت یا تاریخ کی یادداشت؟

شعلہ دمِ آخریں ہے اپنا ٹک دیکھ لیا سو دیکھ لیا


شیخ جابر May 26, 2026

لکھنو کے مضافات میں واقع ایک قدیم، خستہ حال حویلی کے دالان میں، نوے برس کے بوڑھے خطاط، میر باقر علی، اپنے چودہ سالہ پوتے دانیال کو تختی پر لکھنا سکھا رہے تھے۔ دانیال نے سرکنڈے کے قلم کو روشنائی میں ڈبویا اور جلی حروف میں لکھا ’’خواہش۔‘‘ کچھ دیر بعد، لڑکے نے معصومیت سے پوچھا، ’’دادا جان! جب ہم اسے بولتے ہیں، تو یہ ’’خاہش‘‘ سنائی دیتا ہے۔ پھر ہم لکھنے میں اس ’’واؤ‘‘کا بوجھ کیوں اٹھائے پھرتے ہیں؟ جو آواز مر چکی ہے، اسے کاغذ کے کفن میں سنبھالنے کا کیا فائدہ؟‘‘

میر باقر علی نے عینک کے شیشوں کے پیچھے سے پوتے کو دیکھا، ایک گہرا سانس لیا اور بولے۔

’’ میاں دانیال! یہ واؤ مرا نہیں ہے۔ یہ اس قافلے کا نقش قدم ہے جس کے راستے سے یہ لفظ ہم تک پہنچا ہے، اگر تم نے اس واؤ کو مٹا دیا، تو تم لفظ کو آسان نہیں کرو گے، بلکہ اس کا شجرہ نسب کاٹ دو گے۔ املا صرف کانوں کی مُخبری نہیں کرتا، یہ آباؤ اجداد کی تاریخ کا امین بھی ہوتا ہے۔‘‘یہ محض ایک بوڑھے کاتب کی جذباتی تکرار نہیں تھی، بلکہ یہ وہ ابدی علمی سوال ہے جو ہر اس زبان کو درپیش ہوتا ہے جو اپنے اندر صدیوں کا تہذیبی سرمایہ سمیٹے ہوئے ہو۔

ہمارے پچھلے کالم میں بحث ’’انڈا بمقابلہ انڈہ’’ کے گرد گھومتی تھی، جہاں صوتیات کے علم برداروں کا اصرار تھا کہ جو بولا جائے، وہی لکھا جائے۔ بہ ظاہر یہ منطق اتنی دل کش ہے کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہی بنتی ہے، لیکن لسانیات کے وسیع تر تناظر میں ایک بنیادی اور ناگزیر سوال سر اٹھاتا ہے، اگر زبان بنیادی طور پر آوازوں کا ایک نظام ہے، تو دنیا کی بڑی، ترقی یافتہ اور سائنسی کہلائی جانے والی زبانیں اب تک مکمل صوتی املا کیوں نہیں اپنا پائیں؟ وہ کیوں تاریخ کی اس دیمک زدہ یادداشت کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں؟

 اگر ہم دنیا کی بڑی زبانوں کے ڈھانچے کا مطالعہ کریں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خالص صوتیاتی املا ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ دنیا کی امیر ترین زبانیں اپنی تحریر میں صوتی یکسانیت کے بجائے اشتقاقی یادداشت پر تکیہ کرتی ہیں۔ایک لسانیاتی تحقیق کے مطابق، انگریزی زبان کے تقریباً 60 سے 85 فی صد الفاظ ایسے ہیں جن کا املا ان کی موجودہ صوتی شکل سے مطابقت نہیں رکھتا، اگر انگریزی صرف آواز کی امانت ہوتی، تو آج کمپیوٹر اور خلائی سائنس کی یہ زبان اپنے کئی حروف کو بہت پہلے خیرباد کہہ چکی ہوتی۔

آئیے! کچھ عالمی مثالوں پر غور کرتے ہیں۔

انگریزی: لفظ ’’نائٹ‘‘ بہ معنی (شریف زادہ/ سپاہی) کو دیکھیے۔ اس میں ’’کے‘‘ اور ’’جی، ایچ‘‘ تینوں خاموش ہیں۔ صوتی طور پر یہ صرف ’’نائٹ'‘‘(رات) ہے، اگر صوتیات کے جنون میں ’’کے‘‘کو اُڑا دیا جائے، تو رات اور سپاہی کا فرق مٹ جائے گا۔ یہ ’’کے‘‘ اُس عہد کی یادگار ہے جب جرمن زبانوں میں اسے باقاعدہ ادا کیا جاتا تھا۔ اسی طرح ’’ڈیٹ‘‘ (قرض) میں ’’بی‘‘ بالکل خاموش ہے، لیکن یہ ’’بی‘‘ لاطینی اصل (ڈے بی ٹم) کا وہ تاریخی قرض ہے جسے انگریزی آج بھی چکا رہی ہے۔سائیکو لوجی (نفسیات) کا ’’پی‘‘ یونانی فلسفے کی اس جڑ کی گواہی دیتا ہے جسے کاٹ دیا جائے تو لفظ یتیم ہو جاتا ہے۔

•فرانسیسی: فرانسیسی زبان تو صوتیاتی سرجری کے خلاف ایک قلعہ ہے۔ لفظ’’بیو کو‘‘ (بہت زیادہ) کو لکھیے؛ اس میں آٹھ حروف ہیں لیکن بولتے وقت صرف چار صوتیے ادا ہوتے ہیں اور آخر کا ’’پی‘‘غائب ہو جاتا ہے۔ فرانسیسی اکیڈمی صدیوں سے اِس اِملا کی حفاظت کر رہی ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ حروف کو حذف کرنا تہذیبی خودکشی ہے۔

•عربی: ہمارے اپنے ِلسانی خاندان کی بڑی بہن، عربی کو دیکھیے۔ نام ’’عمرو‘‘ کے آخر میں ایک ’’واؤ‘‘لکھا جاتا ہے جسے پڑھا نہیں جاتا۔ یہ واؤ صوتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک انتظامی اور تاریخی ضرورت تھی تاکہ اسے ’’عُمر‘‘ سے الگ پہچانا جا سکے۔ صدیوں بعد بھی عربوں نے اس واؤ کو املا کی توہین نہیں سمجھا، بلکہ اِسے زبان کا حُسن جانا۔

•فارسی: فارسی میں ’’خواہر‘‘ (بہن) یا ’’خواب‘‘ جیسے الفاظ میں موجود ’’واؤ معدولہ‘‘ اب صرف لکھی جاتی ہے، بولی نہیں جاتی۔ ایرانیوں نے اپنی زبان کو جدید بنانے کے نام پر اس واؤ پر کبھی چھری نہیں چلائی، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ واؤ ان کی آریائی جڑوں کا آخری سرا ہے۔

اب ہم واپس آتے ہیں اپنے گھر یعنی اردو املا کی طرف۔ ہمارے ایک جانب کے لسانی ماہرین کا خیال ہے کہ چوں کہ ’’انڈہ‘‘کے آخر میں ’’ہ‘‘کی آواز نہیں ہے، اس لیے اسے الف سے ’’انڈا‘‘لکھنا واجب ہے۔

 دوسرا مکتب:اگر ’’انڈا‘‘ لکھنا صوتی طور پر درست ہے، تو پھر علمِ لغت کا یہ سوال ہماری دستار پر ہاتھ ڈالتا ہے کہ: کیا پھر ہمیں ’’شعلہ‘‘ کو بھی ’’شولا‘‘ لکھنا چاہیے؟

اگر معیار صرف آواز ہے، تو ’’شعلہ‘‘ کے آخر میں بھی وہی کھلا مصوتہ ہے جو ’’انڈا‘‘ کے آخر میں ہے، اگر ہم نے صوتیات کے جوش میں ’’شعلہ‘‘ کو ’’شولا‘‘ لکھ دیا، تو اس لفظ کے اندر موجود عربی کا مادہ (ش - ع - ل) اور اس کی پوری شعری و تہذیبی معنویت خاک میں مل جائے گی۔ میر تقی میر کا وہ کلاسک شعر یاد کیجیے۔

شعلہ دمِ آخریں ہے اپنا

ٹک دیکھ لیا سو دیکھ لیا

کیا کوئی صاحبِ ذوق میر کے اس کلاسک شعر میں ’’شعلہ‘‘ کو ’’شولا‘‘ دیکھ کر اپنے ذوق کی موت کا ماتم نہیں کرے گا؟چلیے، بحث کو ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہیں، اگر ہم یہ قاعدہ بنا لیں کہ ہندی الاصل الفاظ کے آخر میں الف آئے گا اور عربی/فارسی الفاظ کے آخر میں ’ہائے مختفی‘ (ہ) رہے گی، تو پھر ایک اور تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ’مہینہ‘ کو اب ’مہینا‘ لکھا جائے (جو کہ بہت حد تک رائج ہو چکا ہے)۔ لیکن اگر ’’مہینہ‘‘ کا ’ہ‘ الف سے بدل کر مہینا ہو سکتا ہے، تو پھر لہجہ کو لہجا کیوں نہیں لکھا جاتا؟لہجہ تو عربی کا لفظ ہے، لیکن بولتے وقت اس کے آخر میں بھی وہی ’ا‘ کی آواز ہے۔ کیا ہم ’توجہ‘ کو ’’توجا‘‘ یا ’’قلعہ‘‘ کو’’قلا‘‘ لکھنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر املا کا یہ صوتیاتی آپریشن صرف چند غریب الفاظ پر ہی کیوں آزمایا جا رہا ہے؟

زبان کوئی لیبارٹری کا کیمیکل نہیں ہے جسے ایک ہی فارمولے کے تحت منجمد کر دیا جائے۔ زبان ایک بہتا ہوا دریا ہے، جس میں روایت کی مٹی بھی ہوتی ہے اور نئے موسموں کا پانی بھی،اگر ہم املا کو صرف ’’آواز کی امانت‘‘ بنا دیں گے، تو ہماری زبان اپنی تاریخ سے کٹ جائے گی۔ کل کو نئی نسل غالب اور اقبال کے دیوان کو پڑھنے سے قاصر ہو جائے گی کیوں کہ ان کے لیے ’’سرمہ‘‘ اور ’’سرما‘‘ کا فرق مٹ چکا ہوگا اور اگر ہم اسے صرف ’’تاریخ کی یادداشت‘‘ بنا کر لکیر کے فقیر بنے رہے، تو زبان کا دامن بوجھل ہو جائے گا اور نئے سیکھنے والے اس کی پیچیدگیوں سے خوف کھا کر دور بھاگیں گے۔شاید ایک ناگزیر علمی حل یہ ہوسکتا ہے کہ اردو املا کو کسی ایک نظریے کا غلام نہ بنایا جائے۔ جہاں صوتی تبدیلی عوامی سطح پر جڑ پکڑ چکی ہو (جیسے انڈا، تمباکو، چاقو)، وہاں اسے فراخدلی سے قبول کیا جائے، لیکن جہاں لفظ کا تہذیبی حافظہ، اس کا عربی یا فارسی اشتقاق خطرے میں پڑتا ہو (جیسے شعلہ، لہجہ، توبہ)، وہاں روایت کی مہر کو برقرار رکھا جائے۔

 تحریر صرف آواز کا متبادل نہیں ہوتی، تحریر ایک بصری علامت ہے۔ جب ہم ’’شعلہ‘‘ دیکھتے ہیں، تو ہماری آنکھیں صرف ایک لفظ نہیں پڑھتیں، ہمارا پورا تہذیبی حافظہ اس کی روشنی اور تپش کو محسوس کرتا ہے۔ املا کی اصلاح ضرور ہونی چاہیے، مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ کہیں صوتیات کا رنگ روغن کرتے کرتے ہم زبان کا اصل خاکہ ہی نہ مٹا بیٹھیں۔ کیوں کہ: ’’زبانیں صرف موجودہ وقت کی لہروں پر نہیں تیرتیں، وہ ماضی کے سمندروں میں لنگر انداز ہوتی ہیں۔ اِملا کا ہر خاموش حرف، تاریخ کا ایک مزار ہے جس پر شایدچراغ جلتے رہنا چاہیے۔‘‘