آج سے 25 سال پہلے میں نے "میرے باباجان کی باتیں" کے عنوان سے ایک تحریر لکھی اور اتفاق سے جیسے تحریر مکمل ہوئی تو عظیم ادیب اور صحافت کے بے تاج بادشاہ نادر شاہ عادل صاحب میرے دفتر میں داخل ہوئے ان دنوں وہ روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین اور ایڈیٹوریل صفحہ کے انچارج تھے۔
میں نے کچھ بولے بغیر اپنی تحریر شاہ جی کے سامنے رکھی تو پوچھا "خان جی یہ آپ نے لکھی ہے؟ میں نے کہا جی شاہ جی، تو شاہ جی بول پڑے آپ کالم کیوں نہیں لکھتے؟ میں نے کہا شاہ جی میں کالم کیسے لکھ سکتا ہوں، نہ ادیب ہوں اور نہ اہل زبان یہ تو مجھے میرے باباجانؒ سے عشق ہے اور ان سے بہت دور ہوں اس لیے ان کی محافل میں سنی باتوں یا میرے ساتھ کی گئی گفتگو کو دْھرا دْھرا کر گزارا کرتا ہوں تو کبھی کبھار لکھ بھی دیتا ہوں باقی مجھ جیسا پٹھان تو اگر کالم کے چکر میں پڑھ گیا تو اردو کی تذکیر و تانیث میں ہی مر کھپ جائے گا اور لوگ مزے لینے کے لیے خان جاتی ہے۔
خان کھاتی ہے جیسے جملے کس کر طبیعت صاف کرتے رہیں گے، تو شاہ جی ہنس پڑے اور بولے تذکیر و تانیث مجھ پر چھوڑیں آپ افغانستان کے موضوع پر لکھنا شروع کریں، تو میں خیال کے دریچوں میں پھر اپنے مرشد و مربی باباجانؒ کی محفل میں پہنچ گیا اور ان سے جو سنا اکٹھا کرکے لکھا تو شاہ جی بہت خوش ہوئے اور مجھ سے کہا کہ خان جی آپ کو اپنی قوت وطاقت کا اندازہ نہیں آپ لکھیں یہ جو آپ کے باباجانؒ کی باتیں ہیں یہ صرف آپ ہی لکھ سکتے ہیں یہ کسی ادیب اور اہل زبان کی بس کی بات نہیں اور انھوں نے میری اس تحریر کو اگلے دن روزنامہ ایکسپریس کراچی کے ادارتی صفحے پر چھاپ دیا اور میرے کالم کے لیے "تازیانہ" کا نام تجویز کیا۔ جو گذشتہ 25 سالوں میں تازیانہ سے دہشت گرد اور دہشت گرد سے تبدیلی بن کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
آج عیدالاضحٰی پر لکھنے بیٹھا تو باباجانؒ کی تقاریر اور گفتگو کا نزول جاری ہوا اور یہ آرٹیکل بن گیا۔ میرے مرشد و مربی باباجانؒ پیر طریقت رہبر شریعت ولی ابن ولی شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی ؒ فرماتے تھے کہ عیدِ قربان مسلم امہ کا ایک انتہائی مقدس اور بابرکت تہوار ہے جو ہر سال 10 ذوالحجہ کو دنیا بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
عید الضحٰی سے پہلے یوم عرفہ پر روزہ مسلمانوں کے لیے وہ نعمت کبریٰ ہے جو رحمت، مغفرت اور قرب الہی حاصل کرنے کا وسیلہ اعظم ہے اس پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔
ذوالحجہ کے پہلے دس ایام اپنی عظمت و برکت میں بے مثل و بے مثال ہے۔ ان ایام میں قربت الہی کی وجہ سے عبادتوں، ذکر و اذکار اور نیک اعمال کا اجر، دعاؤں اور توبہ و استغفار کی قبولیت کے چانسز کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ان ایام میں نو ذوالحجہ ( یومِ عرفہ) عظمت کبریٰ کا حامل ہے۔
اس سال پاکستان میں یومِ عرفہ منگل کے روز اور 26 مئی 2026 کو ہوگا۔ اللہ رب العزت ہمیں اس مبارک دن کا روزے رکھنے اور اس کے ثمرات سمیٹنے کو آسان بنائیں آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔ کیوں کہ یوم عرفہ کے روزے کے فضائل پر کئی احادیث دال ہیں۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ گزشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔" (صحیح مسلم)
یہ اپنے بندوں سے ستر پیار کرنے والی مائوں سے زیادہ پیار کرنے والے رب العالمین کا انعام، فضل و کرم ہے کہ یوم عرفہ کا ایک روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس لیے تمام مسلمانوں کو اس نعمت کبریٰ پر پروردگار کا شکر ادا کرکے اس کے برکات کو سمیٹنے کے لیے خالق کی رضا کے لیے خالص نیت کے ساتھ یوم عرفہ کے روزے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔" (مسلم:1162، ابوداؤد:2425،ترمذی:749،ابن ماجہ: 1730، احمد:22530)
یومِ عرفہ میں کرنے والے اہم اعمال:
یہ دن صرف روزے تک محدود نہیں بلکہ اس دن میں زیادہ سے زیادہ عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے:
پورا یوم عرفہ خصوصاً عصر سے مغرب کے درمیان دعا کی قبولیت کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس دن اپنے لیے، والدین کے لیے، اولاد کے لیے اور دین و دنیا کی بھلائی خصوصاً امتِ مظلومہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے خصوصی دعائوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ آج امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اپنی گناہوں کی وجہ سے آزمائشوں اور ذلت آمیز دلدل میں پھنس چکی ہے۔ اس یوم عرفہ پر توبہ تائیب ہو کر خلوص نیت کے ساتھ رجوع کرنے، اپنے اعمال درست کرنے اور رحمتِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے یہ بہترین موقع ضایع نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عرفہ کی برکتیں نصیب فرمائے، اس دن کے روزے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور امتِ مسلمہ خصوصاً فلسطین و کشمیر کے مظلومین پر رحم و کرم فرمائے۔ آمین
(جاری ہے)