لابیوں اور تھنک ٹینکس کی فصل کے لیے سب سے زرخیز زمین واشنگٹن ڈی سی کی سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ یہیں پر وہ پالیسیاں و قوانین بنتے ہیں ، منسوخ و ترمیم زدہ ہوتے ہیں ، جنگ و امن کے فیصلے ہوتے ہیں جن کا منفی و مثبت اثر باقی دنیا پر بھی پڑتا ہے۔ان قوانین ، فیصلوں اور اعلانات پر پہلے اور بعد میں ہر طرح کے مفادات لابنگ اور تھنک ٹینکس کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔بہت سے ناکام ہو جاتے ہیں اور کچھ ہر بار اپنا ایجنڈہ منوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
آپ نے بھی بارہا واشنگٹن کی طاقتور یہودی ، اسرائیلی، صیہونی لابی اور ان سے منسلک تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہوگا۔تو کیا آپ نے یہ بھی سنا کہ کوئی ایسا تھنک ٹینک بھی ہے جس کا موضوع ایران ہے اور یہ کانگریس کے ایوانوں سے وائٹ ہاؤس کے اوول روم تک ہر طرح کی پالیسی سازی میں دخیل ہے اور اس سے بچ کے کسی طرح کی آزاد ایران پالیسی تشکیل دینا امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کس قدر دشوار ہے ؟
یہ داستان دو ہزار ایک سے شروع ہوتی ہے جب فلسطین میں دوسرا انتفادہ شروع ہوئے کچھ ماہ ہی گذرے تھے۔واشنگٹن میں تین مخیر یہودیوں نے ایمٹ کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔عبرانی میں ایمٹ کا مطلب ہے سچائی ۔ایمٹ کو ٹیکس فری ادارہ قرار دئیے جانے کی درخواست میں لکھا گیا کہ اس ادارے کا مقصد شمالی امریکا کے خطے میں اسرائیل عرب تعلقات کے بارے میں ’’ شعور بڑھانا ہے‘‘۔ نائن الیون کے بعد ایمٹ نے پراسرار وجوہات کے سبب اپنا نام بدل کے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز ( ایف ڈی ڈی ) رکھ لیا۔تب سے اس کی تحقیق و گفتگو و لابنگ کا موضوع ایران ہے۔
ایف ڈی ڈی کی ہمیشہ کوشش رہی کہ ایران اور امریکا کسی قابلِ قبول دوطرفہ جوہری سمجھوتے تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔دو ہزار پندرہ میں جب اوباما انتظامیہ اور ایران کے مابین ایٹمی امور پر جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن ( جے سی پی او ) طے پا گیا تو کانگریس کے اندر ہونے والی بحثوں میں اس معاہدے کے ایک ایک جملے کو نتھارا گیا۔اس موقع پر ایف ڈی ڈی کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈوبووٹز نے کانگریس میں شہادت دیتے ہوئے اس معاہدے کے بدلے ایران اور اس کے اداروں اور ان سے منسلک افراد پر سے امریکی پابندیاں ہٹانے کے بجائے مزید سخت کرنے کے حق میں پرجوش دلائل دئیے۔
ایف ڈی ڈی کے ماہرین نے اسرائیل نواز ارکانِ کانگریس کو اپنے موقف کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے بقول شخصے ’’ انٹلکچوئل فائر پاور ‘‘ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تقریری مسودے اور پوائنٹس بھی تیار کر کے دئیے۔ایف ڈی ڈی سے منسلک امورِ مشرقِ وسطی کے ماہرین کو اخبارات ، ریڈیو اور ٹی وی ٹاک شوز کی تیاری کروائی گئی ، پالیسی پیپرز لکھوائے گئے ، سیمینارز اور خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔تاکہ فیصلہ سازوں کے ذہنوں میں اچھے سے بٹھایا جا سکے کہ ایران سے کسی بھی طرح کی پرامن پالیسی یا بھلائی کی توقع رکھنا ہر اعتبار سے گھاٹے کا سودا ہے اور موجودہ ایرانی ریاستی ڈھانچے کی تبدیلی کے بغیر پابندیوں کے خاتمے سے پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔
اگرچہ دو ہزار پندرہ میں ایران سے جوہری سمجھوتہ نافذ تو ہو گیا مگر ایف ڈی ڈی نے مایوس ہونے کے بجائے اپنی کوششیں دوچند کر دیں۔چنانچہ پہلی ٹرمپ انتظامیہ نے آتے ہی جو اہم کام کیے ان میں جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ایف ڈی ڈی کے عہدیداروں نے خود اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی قومی سلامتی کونسل کے رکن رچرڈ گولڈ برگ نے صدر کو اس بارے میں وہی بریفنگ دی جو انھوں نے ایف ڈی ڈی سے مل کے تیار کی تھی۔
صیہونی ریاست سے ایف ڈی ڈی کا کیا ناتا ہے ؟ اس بابت ایف ڈی ڈی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطی میں امریکا کا سب سے قیمتی ، بااعتماد مگر خطروں میں گھرا اتحادی ہے۔ ایران اور اس کے علاقائی حواریوں سمیت اسرائیل کے بیشتر دشمن امریکا کے بھی دشمن ہیں۔قطر اور ترکی کا اخوان المسلمین کی اسرائیل دشمن تحریک سے گٹھ جوڑ ہے۔چنانچہ ایف ڈی ڈی کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں امریکی فیصلہ سازوں کو پالیسی وضع کرنے میں مدد دینے کے لیے حقائق سامنے رکھتا رہے۔
پالیسیاں ہموار رکھنے کے لیے جو اسرائیل نواز لابی گروپ امریکی سیاستدانوں ، صحافیوں اور محققین و اساتذہ کے لیے اسرائیل کے خصوصی مطالعاتی دوروں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں ان میں ایف ڈی ڈی بھی نمایاں ہے۔جیکب ناگیل ایف ڈی ڈی میں سینیر فیلو ہیں۔دو ہزار سولہ سترہ میں وہ اسرائیلی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قائمقام سربراہ اور نتین یاہو کے قومی سلامتی مشیر رہے۔اس سے قبل انھوں نے اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مختلف شعبوں میں بھی حساس خدمات انجام دیں۔وہ فلسطینیوں کی نگرانی کرنے والے یونٹ بیاسی سو میں بھی کام کرتے رہے ۔
ایول ہولاتا بھی ایف ڈی ڈی میں سینیر فیلو ہیں۔وہ طویل زمانہ اسرائیلی انٹیلی جینس میں گذار چکے ہیں۔دو ہزار اکیس تا تئیس ایول نے اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت میں ایران کے بارے میں اسرائیل کی قومی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایف ڈی ڈی سے منسلک جوناتھن کونریکس لبنان اور غزہ میں فوجی خدمات انجام دینے کے بعد اسرائیلی فوج کے سرکاری ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔اسی طرح تال کیلمن اسرائیلی فضائیہ کے اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کی سربراہی کر چکے ہیں۔
یعنی یہ سب گرگانِ باران دیدہ اس تھنک ٹینک کا حصہ ہیں جو خود کو میڈیا میں ایک غیرجانبدار نجی امریکی تحقیقی ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔اس وقت صدر ٹرمپ کے سابق مشیرِ سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ میک ماسٹر انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ہیں۔وہ افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کی کمان کر چکے ہیں۔ٹرمپ کے ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر میٹ پوٹنگر بھی ایف ڈی ڈی سے وابستہ ہیں۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز ( ایف ڈی ڈی ) کی سرگرمیوں نے واشنگٹن میں تھنک ٹینک کے تصور ، لابنگ کے پیشے اور پالیسی سازی کی حدود گڈمڈ کر دی ہیں۔ایف ڈی ڈی ایکشن نے ایران پر مزید پابندیوں کے لیے قانون سازی اور اسرائیل کو امریکی اسلحے کی مسلسل فراہمی کی لابنگ پر گذشتہ برس کی پہلی سہ ماہی میں ڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ کیے۔
ایف ڈی ڈی ایکشن کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر نک اسٹیورٹ صدر ٹرمپ کے داماد جیرارڈ کشنر اور سینیر صدارتی مشیر سٹیو وٹکوف کی اس ٹیم میں شامل ہیں جو ایرانیوں کے ساتھ ایک جامع امن معاہدے کی بات چیت کر رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں دودھ کی رکھوالی بلیوں کے سپرد کرنا۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)