سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں وکالت کا لائسنس بحال کرانے کے لیے درخواست دے دی۔
شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اب وکالت کریں گے، دن نہیں کٹتا، بار کی سیاست نہیں کریں گے بلکہ زیادہ تر چیمبر پریکٹس پر توجہ دیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ممبرشپ بحال ہونے کے بعد اپنے وکیل سردار رازق کے چیمبر میں بیٹھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 50 سال قبل وکالت کی پریکٹس اور ممبرشپ چھوڑی تھی، اب نصف صدی بعد اسے دوبارہ بحال کرا رہے ہیں۔
سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک عجیب دن ہے، 50 سال قبل پریکٹس چھوڑی تھی اور آج دوبارہ بحالی کی درخواست دے رہے ہیں۔
شیخ رشید نے بتایا کہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے عدالت سے اجازت طلب کی ہے، عدالت نے درخواست سن کر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
انہوں نے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات خراب ہیں اور کسی کا گزارا نہیں ہو رہا۔
شیخ رشید کو 50 سال بعد دوبارہ راولپنڈی بار کا تاحیات ممبر بنا دیا گیا، انہوں نے لائف ممبرشپ کے لیے درخواست دی تھی جسے صدر بار طارق محمود ساجد اعوان اور ایگزیکٹو باڈی نے منظور کر لیا۔
ممبرشپ کی منظوری کے بعد شیخ رشید باقاعدہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے رکن اور اسلام آباد ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ کے وکیل بن گئے۔
شیخ رشید نے کہا کہ اپنی مدر بار راولپنڈی کا دوبارہ ممبر بن کر خوش ہیں اور تاحیات ممبرشپ دینے پر صدر بار اور بار باڈی کے شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج سے وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے رکن ہیں، اب غریبوں کی قانونی مدد، ملک کی بہتری اور آئین کے لیے کام کریں گے، اب مرنے کے بعد ان کی قبر کے کتبے پر نام کے ساتھ "وکیل" بھی لکھا ہوگا۔
سابق وزیر داخلہ کی عمرہ ادائیگی کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے درخواست پر سماعت کی، محفوظ فیصلہ 16 جون کو سنایا جائے گا، شیخ رشید احمد کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس اور 9 مئی کے سانحے سے متعلق 11 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی بریت کی درخواستوں پر بھی عدالت میں سماعت ہوئی، عدالت نے فواد چوہدری کی بریت کی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سرکاری فریق کو نوٹس جاری کر دیے، بریت کی درخواستوں کی مزید سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی گئی۔