فیفا ورلڈ کپ 2026 میں استعمال ہونے والی آفیشل میچ بال جدید ترین ٹریکنگ ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے جس کے باعث ہر میچ سے قبل اسے چارج کرنا ضروری ہوگا۔
اس نئی گیند میں ایک خصوصی سینسر نصب کیا گیا ہے جو کھیل کے دوران گیند کی ہر حرکت، اس کے مقام اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے ہر رابطے کا ریکارڈ حقیقی وقت میں محفوظ کرے گا۔
یہ جدید نظام اسٹیڈیم میں نصب 12 ہائی ٹیک کیمروں کے ساتھ منسلک ہوگا جو گیند اور کھلاڑیوں سے متعلق ڈیٹا فی سیکنڈ 50 مرتبہ جمع کریں گے۔
حاصل ہونے والی معلومات وی اے آر حکام کو آف سائیڈ اور گول لائن سے متعلق فیصلوں میں مزید درستگی فراہم کرنے میں مدد دیں گی جس سے متنازع فیصلوں کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق 2022 ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی گیند کے مقابلے میں اس بار سینسر کو گیند کے ایک پینل کے اندر براہِ راست نصب کیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے باوجود گیند کا وزن تقریباً وہی رکھا گیا ہے اور کھلاڑی کھیل کے دوران اس سینسر کی موجودگی کو محسوس نہیں کر سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدت فٹبال میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک نئی سطح پر لے جائے گی۔
واضح رہے کہ جرمن کمپنی ایڈیڈاس کی ڈیزائن کردہ یہ فٹبال سیالکوٹ میں واقع ’فیوچر اسپورٹ‘ نامی پاکستانی کمپنی تیار کرتی ہے۔
اس فٹبال کو’ٹرائی اونڈا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لفظ ’ٹرائی اونڈا‘ دو الفاظ ’ٹرائی‘ (تین) اور اسپینش لفظ ’اونڈا‘ (لہر)کو ملاکر بنایا گیا ہے۔
بال میں سرخ، نیلا اور سبز رنگ نمایاں ہے جن کے ساتھ ہر میزبان ملک کا علامتی نشان شامل ہے۔
کینیڈا کی نمائندگی کے لیے میپل کے پتے، میکسیکو کے لیے عقاب اور امریکا کے لیے ستارے کا نشان ہے جبکہ بال پر موجود پیٹرن اتحاد کی علامت ہے۔
یہ پاکستانی کمپنی اس سے قبل 2014، 2018 اور 2022 کے فیفا ورلڈکپ میں استعمال ہونے والی فٹبالز بھی بناچکی ہے۔