بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت؛ ایک گاڑی کو زیادہ سے زیادہ کتنا لٹر ملے گا؟

امریکی فوج نے ایرانی تیل لے جانے والے ایک بھارتی جہاز کو بھی نشانہ بنایا تھا جس میں 3 بھارتی ہلاک ہوگئے تھے


ویب ڈیسک June 12, 2026
بھارت میں پمپوں میں لمبی قطاریں لگ گئیں؛ بجٹ خسارے میں اضافے

بھارت میں مودی سرکار کی بدانتظامی اور نااہلی اس وقت بے نقاب ہوگئی جب ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت نے جنم لیا اور پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

عالمی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ملک بھر میں ڈیزل کی فروخت پر غیرمعمولی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

مودی سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیزل کی قلت کے باعث ایک صارف کے لیے یومیہ خریداری کی حد 200 لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جس سے پورٹ ایریا سے تجاری مراکز پر مال و رسد کی ترسیل رک گئی۔

اس وقت بھارت کے ہر بڑے شہر میں کنٹینرز، ٹرک اور ہیوی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔ پیٹرول پمپوں پر بھی شدید رش ہے اور شہری رل گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

دوسری جانب حکام رواں مالی سال میں بجٹ خسارے کے ہدف سے نمایاں انحراف کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔

ڈیزل کی فروخت پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

حکومت کے مطابق سرکاری تیل کمپنیوں کو بڑھتی ہوئی طلب کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں پٹرول پمپوں پر ڈیزل کی قلت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کیونکہ سرکاری کمپنیاں عالمی قیمتوں کے مقابلے میں کم نرخوں پر ایندھن فروخت کر رہی ہیں۔

بھارت میں ڈیزل مجموعی پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کا تقریباً 40 فیصد حصہ بنتا ہے اور اسے ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور بیک اپ پاور جنریشن کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کے سینئر نائب صدر پرشانت واسشت نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ ماضی میں بھارت نے ڈیزل کی فروخت پر اس قدر سخت پابندی کبھی عائد کی ہو۔

بجٹ خسارہ ہدف سے بڑھنے کا امکان

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت رواں مالی سال میں مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 4.8 فیصد تک جانے دینے پر غور کر رہی ہے جبکہ فروری میں مقرر کردہ ہدف 4.3 فیصد تھا۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کورونا وبا کے بعد پہلی مرتبہ ہوگا کہ حکومت اپنے بجٹ خسارے کے مقررہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔

ایرانی جنگ اور تیل کی قیمتوں کا دباؤ

بھارت دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔

بھارت اپنی خام تیل، مائع گیس (LPG) اور کھادوں کی تیاری کے لیے درکار گیس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ ان سپلائیز کی ترسیل عموماً آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے جو ایران جنگ کے باعث کئی ماہ سے شدید متاثر ہے۔

اسی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر بھارتی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

بھارتی روپیہ بھی دباؤ کا شکار

توانائی کے بڑھتے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارتی روپیہ رواں سال ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم سطح تک گر گیا تھا۔

صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بھارتی مرکزی بینک اور حکومت نے گزشتہ ہفتے غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن میں سرمایہ کاری کے قواعد میں نرمی اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات شامل ہیں۔

سرمایہ کاروں کا اندازہ ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں رواں سال بھارتی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر تک کی نئی سرمایہ کاری آسکتی ہے۔

شرح سود بڑھانے سے گریز

بھارتی مرکزی بینک نے حالیہ مہنگائی کے باوجود شرح سود میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بینک کا مؤقف ہے کہ اس وقت معیشت کو سہارا دینا زیادہ ضروری ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کی رفتار گزشتہ سال کے 7 فیصد سے زائد کے مقابلے میں نمایاں طور پر سست ہونے کا خدشہ ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں مہنگائی میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم یہ اب بھی ریزرو بینک آف انڈیا کے 4 فیصد ہدف سے نیچے ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین اقتصادیات کے مطابق بھارتی حکومت تیل کے بحران کو وسیع معاشی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بینک آف بڑودہ کے چیف اکنامسٹ مدن سبنویس کے مطابق حکومت قلیل مدت میں معیشت کو سہارا دینے کے لیے زیادہ مہنگائی اور مالیاتی خسارے کے خطرے کو قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے تاکہ تیل کے جھٹکے سے اقتصادی ترقی شدید متاثر نہ ہو۔