امریکا، ایران اور ایک نامکمل جنگ

بین الاقوامی سیاست میں صرف نفسیاتی برتری کافی نہیں ہوتی، عملی حقائق اور معاشی ضروریات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں


نعمان حفیظ June 13, 2026

بین الاقوامی سیاست میں بعض جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ طاقتور ریاستیں جب کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتی ہیں تو ان کے پیشِ نظر چند واضح سیاسی، عسکری اور سفارتی اہداف ہوتے ہیں۔

اگر یہ اہداف حاصل نہ ہوں تو بظاہر عسکری برتری رکھنے والی قوت بھی خود کو ایک ایسی صورتحال میں پاتی ہے جہاں فتح کے دعوے کے باوجود اسے سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کئی برسوں سے جاری اس تنازعے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ بظاہر دونوں فریق جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایسی سیاسی اور نفسیاتی کیفیت کا شکار ہیں جو انہیں آسانی سے کسی معاہدے تک پہنچنے نہیں دے رہی۔

امریکا کی ایران پالیسی کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنا، خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور ایسی سیاسی تبدیلیاں پیدا کرنا رہا ہے جو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نہ صرف اپنی ریاستی ساخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مختلف بحرانوں کے باوجود اس نے اپنی علاقائی موجودگی کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اتنے برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور عسکری خطرات کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو آگے کا راستہ کیا ہوگا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں۔ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی گئی اور یہ امید کی گئی کہ شدید معاشی دباؤ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایرانی معیشت ضرور شدید مشکلات کا شکار ہوئی، عوامی زندگی متاثر ہوئی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، مگر ایرانی ریاست برقرار رہی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آج امریکی پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر امریکا مذاکرات کی طرف آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ محض دباؤ کی پالیسی اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کرسکی۔

دوسری طرف امریکی داخلی سیاست بھی اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ امریکا میں کوئی بھی صدر کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتا۔ ٹرمپ کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے خود بارہا اوباما دور کے جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اگر آج وہ اسی نوعیت کے کسی معاہدے کی طرف واپس جاتے ہیں تو سیاسی مخالفین ان سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ آخر برسوں کی کشیدگی، پابندیوں اور اربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد حاصل کیا ہوا؟ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ایسی ڈیل چاہتا ہے جسے سیاسی فتح کے طور پر پیش کیا جا سکے، مگر زمینی حقائق اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے سازگار نظر نہیں آتے۔

اس پوری صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کے حق میں نہیں جو ایران کو معاشی یا سیاسی طور پر مضبوط بنائے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کیا جائے۔ یہی سوچ واشنگٹن پر مسلسل اثر انداز ہوتی ہے۔ چنانچہ جب بھی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو اسرائیل کے اندر تشویش بڑھ جاتی ہے اور امریکی سیاسی حلقوں پر دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی مذاکراتی عمل کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کے توانائی کے نظام میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل اور گیس بڑی حد تک اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ ایران اس خطے میں اپنی جغرافیائی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور اسی لیے وہ اس معاملے کو اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک، ایشیائی معیشتیں اور خلیجی ریاستیں کسی ایسی صورتحال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس سے عالمی تجارت یا توانائی کی فراہمی متاثر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا سوال محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کا مسئلہ بن چکا ہے۔

ایران کے اپنے داخلی حالات بھی کم پیچیدہ نہیں۔ اگرچہ ایرانی قیادت مذاکرات کی میز پر موجود ہے، لیکن اس کے پیچھے مختلف طاقتور ادارے اور نظریاتی حلقے بھی موجود ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب، مذہبی قیادت اور سخت گیر سیاسی عناصر مغرب کے ساتھ تعلقات میں احتیاط برتنے کے حامی ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں معاہدوں کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی مذاکرات کار کسی بھی رعایت کو بہت محتاط انداز میں دیکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران خود کو اس تنازعے میں ایک مضبوط پوزیشن میں محسوس کر رہا ہے۔ تہران کا خیال ہے کہ شدید پابندیوں اور دباؤ کے باوجود وہ ریاستی سطح پر قائم رہا، اس کا سیاسی نظام برقرار رہا اور وہ مکمل تنہائی کا شکار نہیں ہوا۔ یہی نفسیاتی برتری بعض اوقات مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایران سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں کام کر رہا ہے اور امریکا خطے میں ایک طویل تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں صرف نفسیاتی برتری کافی نہیں ہوتی، عملی حقائق اور معاشی ضروریات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

معاشی اعتبار سے ایران کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر رکھنے کے باوجود پابندیوں نے اس کی معیشت کو محدود کر رکھا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری، سرمایہ کاری کی کمی اور مالیاتی مشکلات ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اگر پابندیاں ختم ہو جائیں تو ایران خطے کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اسے سفارتی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی قیادت داخلی دباؤ اور نظریاتی تحفظات کے باوجود ایسا کرنے پر آمادہ ہوگی؟

خلیجی ممالک کی پوزیشن بھی اس بحران میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور دیگر ریاستیں ایک طرف امریکا کے سکیورٹی شراکت دار ہیں جبکہ دوسری طرف وہ خطے میں استحکام بھی چاہتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں عرب ممالک نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کی ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ کسی بڑے تصادم کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان اسی خطے کو ہوگا۔ سرمایہ کاری، سیاحت، توانائی اور تجارتی منصوبے جنگی ماحول میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ایک ایسے مخمصے کا شکار ہیں جہاں جنگ مہنگی ہے اور امن پیچیدہ۔ امریکا بغیر کسی نمایاں کامیابی کے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتا جبکہ ایران اپنی موجودہ پوزیشن کو کمزور دکھانا نہیں چاہتا۔ اسرائیل کے تحفظات، خلیجی ممالک کے مفادات، جوہری پروگرام، معاشی پابندیاں اور آبنائے ہرمز جیسے عوامل اس بحران کو مزید الجھا دیتے ہیں۔

موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت حقیقت پسندی کی ہے۔ اگر دونوں فریق اپنی داخلی سیاست اور وقتی سیاسی فوائد سے بالاتر ہو کر خطے کے وسیع تر مفاد کو دیکھیں تو ایک متوازن معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر فریقین اپنی اپنی کامیابی کے بیانیے کو برقرار رکھنے کے لیے ضد پر قائم رہتے ہیں تو کشیدگی کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، تنازعات اور عدم استحکام کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ آج بھی اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع اور پائیدار سمجھوتہ نہ ہو سکا تو اس کے اثرات صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن اس کی قیمت ادا کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں آج صرف مذاکرات پر نہیں بلکہ ان سیاسی رکاوٹوں پر بھی مرکوز ہیں جو اس ڈیل کی راہ میں حائل ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
نعمان حفیظ
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔