برطانیہ؛ اسرائیلی دفاعی فیکٹری پر حملے میں ملوث 4 فلسطین حامی رضاکاروں کو 20 سال قید

چاروں فلسطین حامی ایکٹوسٹ نے 2024 کو برطانیہ میں اسرائیلی دفاعی کمپنی کی فیکٹری پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی تھی


ویب ڈیسک June 13, 2026
چاروں فلسطینی حامی ایکٹوسٹ نے اسرائیلی دفاعی کمپنی پر حملہ کیا تھا

برطانوی عدالت نے اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کی فیکٹری پر حملے اور ایک ملین پاؤنڈ سے زائد نقصان پہنچانے کے جرم میں 4 فلسطین حامی ایکٹوسٹ کو مجموعی طور پر 20 سال سے زائد قید کی سزائیں سنا دیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق 30 سالہ شارلٹ ہیڈ، 23 سالہ سیموئل کارنر، 30 سالہ لیونا کامیو اور 21 سالہ فاطمہ زینب رجوانی کالعدم فلسطین حامی تنظیم فلسطین ایکشن سے وابستہ تھے۔

ان کارکنوں نے 2024 میں جنوب مغربی انگلینڈ کے شہر برسٹل میں واقع ایلبٹ سسٹمز کی فیکٹری پر دھاوا بول کر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ جس میں فیکٹری کو 10 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کا نقصان پہنچا تھا۔

ملزمان کو مئی میں اس جرم میں قصوروار قرار دیا گیا تھا جبکہ سیموئل کارنر کو ایک پولیس افسر کو بھاری ہتھوڑے سے زخمی کرنے کے الزام میں سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کا بھی مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کارروائی کا تعلق دہشت گردی سے ہے لہٰذا ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں۔ اس مؤقف پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد معروف شخصیات نے تنقید بھی کی تھی۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے قرار دیا کہ جرم میں دہشت گردی سے تعلق ایک سنگین عنصر تھا تاہم ملزمان کا سابقہ ریکارڈ صاف ہونا ان کے حق میں ایک اہم رعایت بھی ہے۔

عدالت نے سیموئل کارنر کو دونوں جرائم میں مجموعی طور پر 7 سال 8 ماہ قید کی سزا سنائی۔ جج نے کہا کہ کارنر نے انتہائی اور غیر ضروری طاقت استعمال کی اور ان کا آٹزم اس تشدد کی وضاحت نہیں کرتا۔

دیگر تین کارکنوں میں لیونا کامیو اور شارلٹ ہیڈ کو 5، 5 سال قید جبکہ فاطمہ زینب رجوانی کو 4 سال 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق چاروں کارکن اپنی قید مکمل کرنے کے بعد مزید ایک سال تک عدالتی نگرانی (لائسنس) کے تحت رہیں گے۔