وفاقی اردو یونیورسٹی میں 11 کروڑ روپے کی لاگت کا سولر منصوبہ خامیوں کا شکار ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی اردویونیورسٹی میں 11 کروڑ کی لاگت کا سولر منصوبہ تکنیکی خامیوں کا شکار ہوکر اپنی افادیت حاصل نہیں کرپارہا یے اس منصوبے کے لیے 11 کروڑ روپے ایچ ای سی نے فراہم کیے تھے سولرائزیشن منصوبہ میں ناقص حکمتِ عملی کے سبب بجلی کی پیداوار اپنے ہدف سے 40 سے 50 فیصد تک کم بتائی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے سے بجلی کے بلوں میں کراچی کے دونوں کیمپسز میں پورے ایک سال کے دورن کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ آن گرڈ تھا جسے کے الیکٹرک کے گرڈ سے منسلک ہونا تھا تاہم جب سولر کی تنصیب کردی گئی تو معلوم ہوا کہ اردو یونیورسٹی کا لوڈ سینکشن نہیں جس کے سبب سولر کو گرڈ سے منسلک نہیں کیا جاسکا۔
یونیورسٹی کو لوڈ سینکشن اور گرڈ سے منصوبے کو منسلک کرنے کے لیے 85 لاکھ روپے فی کیمپس کے حساب سے بجلی ساز کمپنی کو ادا کرنے ہیں جس کے بعد ہی یہ منصوبہ کار آمد ہوسکے گا۔
یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرڈ سے منسلک نہ ہونے کے سبب سولر سے صرف ضرورت کے مطابق بجلی حاصل کی جارہی جبکہ ہدف اور پیداوار کی صلاحیت حاصل ہونے والی بجلی سے کہیں زیادہ ہے۔
ادھر آن گرڈ منصوبہ ہونے کے سبب سولر میں بیٹریاں بھی نہیں لگائی گئی ہیں جس کے سبب اضافی بجلی محفوظ بھی نہیں ہوسکتی۔ زرائع بتاتے ہیں کہ گرڈ سے عدم منسلک ہونے اور بیٹریاں نہ ہونے کے باعث لوڈ شیڈنگ میں یونیورسٹی کو جنریٹر چلانے ہوتے ہیں۔
ادھر یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہے کہ سولرائزیشن میں ناقص وائرنگ اور غیر معیاری ارتھنگ کی گئی ہے اور اس حوالے سے کچھ تصاویر اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں۔
یاد رہے کہ گرین انرجی پروجیکٹ کے تحت یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز میں مجموعی طور پر 1,050 کلو واٹ (kWp) کا ’آن گرڈ‘ سسٹم لگایا گیا تھا، پہلے مرحلے میں گلشنِ اقبال کیمپس کراچی میں 250 کلو واٹ، اسلام آباد کیمپس میں 220 کلو واٹ اور عبدالحق کیمپس کراچی میں 80 کلو واٹ کے سولر سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ ہوا۔
ایک سال بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے اسلام آباد میں 400 کلو واٹ اور گلشنِ اقبال کیمپس میں مزید 100 کلو واٹ کا اضافہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ اضافی بجلی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے فروخت کرکے یونیورسٹی کی انرجی ضروریات اور مالیاتی خسارے کو پورا کرنا تھا جو نہیں ہوسکا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منصوبے کی خامیوں کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ پروجیکٹ کی فنڈ یوٹیلائزیشن رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہی۔ بتایا جارہا ہے کہ گذشتہ ماہ (مئی 2026) میں یونیورسٹی کی جانب سے 1.5 ملین (15 لاکھ) روپے کا بجلی کا بل ادا کیا گیا یونیورسٹی میں آن گرڈ سولر سسٹم لگایا گیا ہے جسے فعال (Activate) کرنے کے لیے گرڈ یا جنریٹر کی بجلی کا ہونا لازمی ہے۔
دوسری جانب نیٹ میٹر نگل کے لیے جو ڈیمانڈ ڈرافٹ جمع کرانا ہے یونیورسٹی کے پاس اس کی ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں۔ ادھر "ایکسپریس" کے رابطہ کرنے پر سولرائزیشن پروجیکٹکے ڈائریکٹر راحت اللہ کا کہنا تھا کہ 1949 سے اردو یونیورسٹی کراچی کے دونوں کیمپسز کا لوڈ سینکشن نہیں۔ لوڈ سینکشن نہ ہونے سے نیٹ میٹرنگ نہیں کرپارہے تاہم ہم بجلی ضائع نہیں کررہے جس قدر استعمال ہے اتنی ہی کنٹرول پروڈکشن کررہے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ ہماری کوششوں سے اسلام آباد کیمپس کا بل مائنس میں جاچکا ہے انھوں نے دعوی کیا کہ کراچی میں بھی بل پر 65 فیصد تک کمی آئی ہے۔ پورٹل پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اب تک 1 سال میں سولر سے 28 ملین روپے تک پروڈکشن کے عوض بجلی بچا چکے ہیں۔