فروری 2026 کے آخری ہفتے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو نریندر مودی نے امریکی صدر ٹرمپ کو ماضی میں ڈالی جانے والی ’’ ہیلو مائی برادر‘‘ جھپی کا ایکشن رے پلے کیا تو اسرائیلی وزیر اعظم کو لگا کہ ایشیا کی بڑی ایٹمی طاقت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے اُسے سینے لگا لیا ہے۔
اسرائیل، امریکا کی گود میں کلکاریاں بھرتے بھرتے اچانک خود سر اور ضدی بچے کی طرح سرکش اور بے نتھا بیل بن چکا تھا اور موشے دایان، گولڈا میئر اور پھر نیتن یاہو جیسے سفاک دل کو نریندر مودی جیسے، ’’گجرات کے قصائی‘‘ جیسا ’’مائی برادر‘‘ دوست ملا تو دونوں مسلم کش انتہا پسندوں نے ایک دوسرے سے مسلمانوں کو نیست و نابود کے ناپاک منصوبوں پر اتفاق کر لیا۔
نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے اختتام کے ساتھ ہی 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر پہلا میزائل فائر کر دیا ،گویا مشرق وسطیٰ اسرائیلی غنڈہ گردی جو غزہ اور لبنان میں پہلے سے جاری تھی، اب اس کا رخ ایران کی طرف کر دیا گیا۔
اسرائیل نے اپنے تمام تر ناپاک اور توسیع پسندانہ منصوبوں کی تکمیل امریکی سرپرستی میں کرتا چلا آرہا ہے سو اس حملے میں اسے امریکا کی آشیرواد اور سرپرستی حاصل تھی۔
اسرائیل کے میزائل حملے کے بعد امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ 45 سال تک عالمی برادری سے دور رکھے جانے والے ایران میں اتنی سکت نہیں ہوگی کہ وہ اسرائیل کے حملے کا جواب دے سکے، بلکہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کا خیال تھا کہ اس حملے کے جواب میں ایران اپنا دوسرا گال پیش کردے گا اور خاموشی سے اگلے حملوں کے لیے سرجھکا کر انتظار کرے گا مگر اس کے برعکس ایران نے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی امیدوں پر اوس ڈال دی اور ایران نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تو امریکا اور اسرائیل دونوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے اور امریکا کو ایران کا جوابی حملہ اپنی ساکھ پر کاری ضرب محسوس ہوئی۔
صدر ٹرمپ جو اپنی فطرت میں ایک سیماب صفت شخصیت ہیں وہ ایران کی اس حرکت بوکھلا گئے اور پھر امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف براہ راست حملے شروع کر دیے گئے چونکہ امریکا کے لیے یہ حملے واشنگٹن، نیو یارک، شکاگو یا لاس اینجلس سے کرنا ممکن نہ تھا، سو ان حملوں کے لیے امریکا نے مشرق وسطی اور عراق میں قائم اپنے فوجی اڈے استعمال کیے اور خلیجی ممالک میں یہ اڈے امریکا نے ان ممالک کو دفاعی امداد فراہم کرنے کے لیے قائم کیے تھے۔
جس کے عوض امریکا ان ممالک سے مالی خراج وصول کرتا تھا وہ اڈے اب اسرائیل کے دفاع اور استحکام کے لیے استعمال ہونے لگے تو ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف امریکی اڈوں سے ایران پر حملے اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو صفحہ ہستی مٹانے کے ناپاک عزائم تھے بلکہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے دوران یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ’’ وہ ایران کی صدیوں پرانی تہذیب کو تاریخ کا قصہ بنا دیں گے۔‘‘
ایران کی جانب سے اس چومکھی لڑائی میں بڑی فوجی حکمت عملی اور صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ حوصلہ اور ہمت کا مظاہرہ کیا گیا، اگر چہ امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت تمام صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت کو شہید کردیا گیا مگر ایران کی حکومت، فوج اور عوام کے حوصلے پست نہ ہو سکے اور ایران نے اسرائیل اور امریکی حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور خطے میں امریکا کے تمام فوجی اڈوں کو میزائیلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا حتیٰ کہ صورت حال اس نہج پر پہنچی کہ امریکا بہادر کے صدر ٹرمپ نے مشرق وسطی میں موجود امریکی فوجیوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ کسی بھی طرح وہاں سے انخلا کرکے امریکا آجائیں۔
دوسری جانب سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت کے جانی نقصان کے باوجود ایرانی قوم کا حوصلہ دیدنی تھا۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باوجود وہاں کے لوگ ریلیاں نکال رہے تھے۔ حملوں کے مناظر دیکھتے تھے اور اسرائیل اور امریکا کا منہ چڑاتے تھے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مختلف الزامات لگتے رہے وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کبھی ایران میں رجیم چینج (نظام کی تبدیلی) کا دعویٰ ٰکرتے رہے، کبھی ایران کی افزودہ یورینیم کو بنیاد بنا کر حملے جاری رکھتے اور کبھی جوہری ہتھیار بنانے کا خدشہ ظاہر کرتے رہے اور کبھی ایران کو علاقائی ممالک کے لیے خطرہ بتا کر حملے کرتے رہے۔
دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جو خلیجی ممالک کی واحد تجارتی راہداری ہے جہاں سے تمام خلیجی ممالک کی درآمدات و برآمدات کا بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دیتی ہے، اُسے اپنے کنٹرول میں لے کر ایران نے وہاں سمندر کی تہہ میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاکہ ایران کی مرضی کے بغیر وہاں سے کوئی آئل ٹینکر، دفاعی ساز و سامان یا اشیائے خورو نوش کا کوئی بحری جہاز نہ گزر سکے اور ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس کا نظام اور ایرانی بحریہ سے اجازت نامہ مشروط کر دیا۔
اگرچہ امریکا نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے آبنائے ہرمز کے دوسرے بحری راستے باب المندب کے اطراف میں ناکہ بندی کرکے ایران کو دھمکانے کی کوشش بھی کی، لیکن ایرانی حکمت عملی اور حوصلے نے امریکا کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ جو جنگ اس نے اسرائیل کی ایما پر شروع کی تھی، اس سے اب باہر کیسے نکلا جائے اور اس وقت امریکا کی صورتحال اس محاورے کی طرح ہے کہ ’’میں تو کمبل چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا ۔‘‘
اسرائیل اور امریکا نے اس جنگ سے ایران کو مزید مضبوط اور چوکنا کر دیا ہے جب کہ امریکا کی عالمی سپر پاور کی حیثیت اب دم توڑتی محسوس ہورہی ہے جس کا نقصان بادی النظر میں اسرائیل کو بھی پہنچے گا اور ایران کے نیوی جہاز کی مخبری کرنے کے باوجود اور نیتن یاہو سے جھپی ڈالنے کے بعد بھی بھارت اور نریندر مودی کو امریکی صدر ٹرمپ کی نظر میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔
بلکہ پاکستان اپنے امن پسند رویے اور ایران، امریکا کے درمیان ثالثی کے کردار کے باعث دنیا بھر میں اپنی عزت و وقار کو بلند کر رہا ہے۔
چین، روس اور امریکا جیسی سپر طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات اور یورپ، برطانیہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان نے دوستی کی ایک نئی سمت کاآغاز کیا ہے جس کا کریڈٹ بنیادی طور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، سیاسی طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور سفارتی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزارت خارجہ کے سفارتی ماہرین کو جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کو جب ٹیلیفون کال پر گالیوں سے نوازا گیا تو وہ اس جنگ میں صدر ٹرمپ اور امریکا کی پسپائی کا ایک پہلو ہے کہ ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘ اور رہی سہی کسر امریکی ایوان نمائندگان نے پوری کر دی جب صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کر دیے اور کہا کہ ’’ امریکی عوام کا پیسہ اسرائیل کی جنگ پر خرچ نہیں کرنے دیا جائے گا تو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ جس کے بارے صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ 6 دن میں ایران کو فتح کرلیا جائے گا اب ’’سانپ کے منہ میں چھچھوندر‘‘ کے مصداق امریکا کے حلق میں اٹک گئی ہے جسے نگلنا بھی مشکل اور اگلنا بھی ناممکن ہے۔
6 دن میں ایران کو فتح کرنے کا اعلان کرنے والی جنگ ساڑھے تین ماہ جاری رہنے کے بعد نہ صرف سپر پاور امریکا کو گھٹنوں پر لے آئی بلکہ اس جنگ نے صدر ٹرمپ کو امریکی ایوان نمائندگان کے سامنے بے بس اور شکست خوردہ کردیا ہے۔