بھارت کی ایئرفورس کا ٹرانسپورٹ طیارہ شمال مشرقی ریاست آسام میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام پانچ فضائی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
حادثے کا شکار ہونے والا بھارتی فضائیہ کا اینٹونوف اے این-32 طیارہ دو انجنوں پر مشتمل درمیانے درجے کا ٹرانسپورٹ طیارہ ہوتا ہے جو فوجی اہلکاروں، اسلحے اور سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے مطابق حادثہ ہفتے کے روز آسام کے ضلع جورہاٹ کے قریب ایک معمول کی پرواز کے دوران پیش آیا۔
بھارتی فضائیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ طیارہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا جس کے بعد امدادی اور ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا تھا۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی نشر کردہ تصاویر میں حادثے کے مقام سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا۔
بھارتی فضائیہ کے بڑے طیارہ حادثات
بھارتی فضائیہ گزشتہ کئی دہائیوں سے طیارہ حادثات کے مسئلے سے دوچار رہی ہے خصوصاً پرانے روسی ساختہ طیاروں کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
جون 2019 میں ایک اے این-32 طیارہ ریاست اروناچل پردیش میں چین کی سرحد کے قریب لاپتا ہونے کے بعد تباہ شدہ حالت میں ملا تھا۔ اس حادثے میں 13 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح 2016 بھارتی فضائیہ کا ایک اے این-32 طیارہ خلیج بنگال کے اوپر پرواز کے دوران لاپتا ہوگیا تھا۔ طیارے میں سوار تمام 29 افراد ہلاک تصور کیے گئے تھے اور یہ بھارتی فضائی تاریخ کے بڑے حادثات میں شمار ہوتا ہے۔
بعد ازاں 2021 میں تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت سمیت 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گزشتہ برس بھی مختلف تربیتی مشقوں کے دوران بھارتی فضائیہ کے متعدد جنگی اور تربیتی طیارے حادثات کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد پرانے فضائی بیڑے کی حالت اور دیکھ بھال پر بحث تیز ہوگئی۔