ضلع سینٹرل جوہر آباد کے علاقے میں کیش وین سے 39 کروڑ روپے لوٹنے کے واقعے کا مقدمہ ایک روز بعد تھانہ جوہر آباد میں درج کرلیا گیا۔ مقدمہ نجی سیکیورٹی کمپنی (ایس او ایس) کے سیکیورٹی انچارج غلام میر علی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمہ متن کے مطابق کیش وین کے گارڈز نیاز اور اختر حسین نے پولیس کو بتایا کہ 12 جون کو کیش وین طارق روڈ سے 30 کروڑ روپے لے کر واٹر پمپ کی جانب روانہ ہوئی تھی۔ راستے میں بلاک 14 رضوان پارک کے قریب کیش وین کے کرو چیف واجد علی نے گاڑی رکوائی۔
مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور وسیم گاڑی سے اتر کر کچھ سامان خریدنے چلا گیا جبکہ اسی دوران کرو چیف واجد علی موبائل فون پر کسی سے بات کرنے لگا۔ اسی اثنا میں ایک سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی آکر کیش وین کے پیچھے رکی، جس سے 4 مسلح ملزمان اترے۔ متن کے مطابق ایک ملزم کیش وین کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ دیگر 3 ملزمان پچھلے کیبن میں داخل ہوگئے۔
ملزمان نے دونوں گارڈز کے ہاتھ باندھ دیے جبکہ کرو چیف واجد علی نے خود کیش وین کا پچھلا دروازہ بند کردیا۔ مقدمے کے مطابق ملزمان کیش وین کو ویگو گاڑی کے پیچھے چلاتے رہے۔ کچھ فاصلے پر پہنچنے کے بعد گارڈ واجد علی نے والٹ کی چابی ملزمان کے حوالے کردی، جس کے بعد ملزمان نے والٹ میں موجود 30 کروڑ روپے نکال کر اپنی ویگو گاڑی میں منتقل کرلیے۔
ڈکیتی کے وقت کیش وین میں موجود سیکیورٹی گارڈ نیاز اور اختر حسین کے مطابق کچھ دیر بعد بندھے ہوئے ہاتھ کھول کر جب کیش وین کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں نہ ویگو گاڑی موجود تھی اور نہ ہی کرو چیف واجد علی۔ تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ مفرور کرو چیف واجد علی اور دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔