امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کر دیئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں جس پر میں نے خود اور نائب صدر نے دستخط کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کی مکمل تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایک اور سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی بحران کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔
بعد ازاں اس بات کی تصدیق امریکی نائب وزیر جے ڈی وینس نے بھی کی کہ ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف نے بھی معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کردیے ہیں۔
صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ اس عمل کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی وابستگی اور عزم کا واضح اظہار کرسکیں۔
تاہم امریکی حکام اور تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تو ایرانی سپریم لیڈر یا اعلیٰ قیادت کی براہِ راست شمولیت کیوں نظر نہیں آتی جس سے معاہدے کی قانونی اور عملی حیثیت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا ایک اہم حصہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔ ساتھ ہی امریکا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی افواج کا مرحلہ وار انخلا اسی صورت میں ہوگا جب ایران معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے ہیں جہاں انھوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ گفتگو کی۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی۔ معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران شرائط پوری کرتا ہے تو پابندیوں میں نرمی شروع ہوگی اور اگر نہیں کرتا تو ہم دوبارہ وہیں واپس جائیں گے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اچھے ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقین کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ہے۔
صدر ٹرمپ کے بقول ایران کو صرف اسی صورت میں پابندیوں میں ریلیف ملے گا جب وہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے گا۔ یہ مکمل طور پر رویّے کی تبدیلی سے مشروط ہوگا۔