ٹرمپ بال بال بچ گئے؛ وائٹ ہاؤس پر ڈرونز اور اسنائپر حملے کے 5 منصوبہ ساز گرفتار

ایف بی آئی نے بروقت کارروائی کرکے وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کو بچالیا، سازش میں 23 افراد ملوث تھے


ویب ڈیسک June 16, 2026
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تقریب پر حملہ کرنا تھا

امریکا کے مشہور زمانہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی UFC فریڈم 250 اور ٹرمپ کی سالگری کی تقریب پر مبینہ دہشت گرد حملے کی ایک خوفناک سازش کو عین وقت پر پکڑ کر بڑے نقصان سے بچالیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایف بی آئی اے نے بتایا کہ حملے کی سازش میں دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرونز، اسنائپرز اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس پر دھاوا بولنے کا منصوبہ شامل تھا۔

ایف بی آئی نے یہ منصوبہ 10 جون کو ناکام بنایا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس ممکنہ خطرے کی اطلاع ملی۔ متعدد ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر 23 افراد کو سازش سے منسلک قرار دیا گیا۔

حملے کا منصوبہ کیا تھا؟

تحقیقاتی اداروں کے مطابق سازش کرنے والوں کا منصوبہ یہ تھا کہ دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے تقریب کے قریب عمارتوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر بھگدڑ مچ جائے۔

ساش کرنے والے گرفتار ملزمان نے مزید بتایا کہ بھگدڑ مچنے سے اور وہاں سے بھاگنے والے ہجوم کو پہلے سے تعینات اسنائپر ٹیم اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی جس سے زیادہ جانی نقصان پوتا۔

ایف بی آئی حکام کا مزید کہنا ہے کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حملہ آور وائٹ ہاؤس کے داخلی دروازوں پر دھاوا بولنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔

سازش کیسے پکڑی گئی؟

رپورٹس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی اطلاع کے بعد ایف بی آئی متحرک ہوئی۔

بعد ازاں تفتیش کاروں نے مشتبہ افراد کے موبائل فونز اور خفیہ پیغام رسانی کی ایپ "سگنل" پر ہونے والی گفتگو تک رسائی حاصل کی جہاں حملے کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مشتبہ افراد 12 اور 13 جون کو ریاست ورجینیا کے شہر فریڈرکسبرگ میں جمع ہونے والے تھے تاکہ حملے کی حتمی تیاریوں کو مکمل کیا جا سکے۔

ممکنہ اہداف کون تھے؟

امریکی میڈیا کے مطابق مشتبہ افراد مبینہ طور پر سیاست دانوں، ارب پتی شخصیات اور ان افراد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جنہیں وہ امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی یا امریکی اشرافیہ سے وابستہ سمجھتے تھے۔

بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان انتہا پسند اور حکومت مخالف نظریات رکھتے تھے تاہم اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایف بی آئی کا بیان

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کی بدولت حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

گرفتار افراد کی شناخت 

ایف بی آئی نے گرفتار ملزمان کی مکمل شناخت اور قومیتیں تاحال ظاہر نہیں کی ہیں تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ایک مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ ٹائسن پراپر کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تفصیلات عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

UFC فریڈم 250 تقریب کیا تھی؟

UFC فریڈم 250 ایونٹ 14 جون کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد کیا گیا تھا۔ یہ تقریب امریکا کی 250 ویں سالگرہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھی۔

اس تقریب میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر سیاسی، کاروباری اور نامور سماجی شخصیات شامل تھیں۔

حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والے سب سے بڑے دہشت گرد حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔

تاہم ایف بی آئی نے واضح کیا ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور تمام ملزمان پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔