ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمتی دستاویز پر 14 جون کو دستخط کر دیے گئے ہیں۔


صابر کربلائی June 17, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمتی دستاویز پر 14 جون کو دستخط کر دیے گئے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع نے بھی اس مرتبہ تصدیق کی اور بتایا گیا کہ یہ مفاہمتی دستاویز 14 نکات پر مشتمل ہے جس میں آیندہ 30 اور 60 روز میں مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔اس عنوان سے اگر ایک خلاصہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایران نے جنگ اور سفارتکاری کے میدان میں امریکا کا غرور خاک میں ملا دیا، امریکا مزید سپر پاور نہیں رہا تو بالکل درست ہو گا۔

 مغربی ایشیاء کی سیاست میں حالیہ سفارتی اور تزویراتی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں اصل اہمیت اخلاقیات کی نہیں، بلکہ طاقت کے توازن اور پتے درست طریقے سے کھیلنے کی ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف لبنانی حکام نے طویل عرصے تک محض امریکی یقین دہانیوں پر تکیہ کر کے پیشگی رعایتیں دیں اور بدلے میں اسرائیل کے مسلسل حملوں اور سفارتی ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکے، وہاں دوسری طرف ایران نے اپنی عسکری، سیاسی اور مذاکراتی طاقت کا ایسا ماسٹر کلاس مظاہرہ کیا ہے جس نے واشنگٹن کو ان حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ،جنھیں وہ پہلے مسترد کرتا آیا تھا۔سامنے آنے والے حالیہ مذاکراتی مسودے کے چونکا دینے والے نکات نے بین الاقوامی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، جو کہ ایران کی ایک بہت بڑی تزویراتی فتح کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس مجوزہ مسودے کے مندرجات بتاتے ہیں کہ ایران نے کس طرح امریکی دباؤ کو نہ صرف جھیلا بلکہ اسے اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہی ایران کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اس مسودے کے تحت امریکی بحری ناکہ بندی کو30 دن کے اندر ختم کیا جائے گا، جب کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد طویل مدتی پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔ یہ ایران کی معیشت کے لیے ایک بڑا بریک تھرو ہے۔

مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی شامل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن جو مہینوں سے لبنان کو ایران سے الگ تھلگ کر کے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔حالانکہ اس مسودے پر دستخط سے قبل غاصب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملے کیے اور امریکا کو پیغام دیا کہ اسرائیل اس مسودے کا احترام نہیں کرے گا لیکن یہی اسرائیل کی غلطی اسے الٹی پڑ گئی اور امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک مرتبہ پھر فون کال پر کہا کہ اگر’’ امریکا تمہارے پیچھے سے ہٹ جائے تو تم دو گھنٹوں میں ختم ہو جاؤ گے۔‘‘ امریکی صدر کو نیتن یاہو کو یہ بتانا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ امریکا خطے میں حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ سمیت ایران اور عراق کی مزاحمتی قوت کو تسلیم کرتاہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے مفاہمتی مسودے میں سب سے حیران کن نقطہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو کے لیے کم از کم300 ارب ڈالر فراہم کرنے کے پابند ہوں گے، یہ رقم ایک طرح سے تہران کے اس بیانیے کی فتح ہے کہ پابندیوں سے ایرانی عوام کا معاشی استحصال کیا گیا۔اس حتمی ایران امریکا معاہدے کو محض ایک سیاسی وعدہ نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ اس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی تحفظ مل سکے۔

ایران اپنے اصولی موقف پر قائم رہا، چنانچہ حتمی معاہدے میں ایران کا میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروپوں کی حمایت سے دستبرداری شامل نہیں ہے۔ یعنی تہران نے اپنی دفاعی اور علاقائی طاقت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ مذاکرات کے دوران ہی ایران کے 24ارب ڈالر کے منجمد اثاثے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جو ایران کے مالیاتی دباؤ کو فوری طور پر کم کرے گا۔

اس پورے منظر نامے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں انتہائی قابل تعریف رہی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور تنازعات کے پرامن حل کی وکالت کی ہے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کیا، بلکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے میں اہم معاونت فراہم کی۔ پاکستان کی اس مدبرانہ سفارت کاری نے ثابت کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی بلاک کی سیاست کا حصہ بنے بغیر، ایک غیر جانبدار اور امن پسند سہولت کار کے طور پر اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

پاکستان کی ان کوششوں کی بدولت ہی خطے کو ایک وسیع تر جنگ کی دلدل میں گرنے سے بچانے میں مدد ملی۔ اگرچہ یہ مسودہ ایران کی بہت بڑی سفارتی جیت ہے، لیکن امریکا کی ماضی کی تاریخ (خصوصاً 2018 میں جے سی پی او اے سے یکطرفہ انخلا) کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو نئی سیاسی مساوات کیا ہوگی؟  اگر واشنگٹن سلامتی کونسل کی قرارداد سے منظور شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو بین الاقوامی برادری میں اس کی سفارتی ساکھ کو ایسا دھچکا لگے گا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ اقدام عالمی طاقت کے توازن کو تیزی سے بیجنگ اور ماسکو کی طرف دھکیلے گا اور دنیا امریکی بالادستی کے دور سے مستقل طور پر باہر نکل جائے گی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست کی میز پر انعام ان کو نہیں ملتا جو کمزوری دکھاتے ہیں یا محض خیرات کی امید پر رعایتیں دیتے ہیں (جیسا کہ لبنانی حکام نے کیا)، بلکہ انعام ان کا ہوتا ہے جو طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنا جانتے ہیں۔ ایران نے اپنی مزاحمت اور حکمت ِ عملی سے یہ جنگ جیت لی ہے، اور اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے، جہاں اس کا ہر غلط قدم خود اس کی اپنی عالمی پوزیشن کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔