اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون سیکشن 7E کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹیکس کا نفاذ آئینی حدود اور بنیادی حقوق کے تابع ہے، پارلیمنٹ کو غیرمنقولہ جائیداد پربالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔
92 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا جس میں عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 7E کا مقصد دراصل ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ غیرمنقولہ جائیداد رکھنے کی حوصلہ شکنی ہے۔
ایسا ٹیکس فنانس بل میں کسی صورت شامل نہیں کیا جاسکتا، ٹیکس کسی بھی عوامی مقصد کیلئے نافذ کیا جاسکتا ہے جس کا بوجھ مشترکہ طور پر عوام اٹھاتے ہیں۔
ٹیکس کے نفاذ کا دارومدار عوام کو براہ راست فائدہ پہنچنے سے مشروط نہیں، کوئی بھی قانون اگر بنیادی حقوق کے منافی ہو یا قانون سازی کے اختیار سے تجاوز کرے تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
سیکشن 7E غیرمنقولہ جائیداد کی آمدن نہیں بلکہ اس کی ملکیت پر ٹیکس عائد کرتا ہے، اسکے تحت جائیداد کی مالیت کا پانچ فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا تھا، چاہے اس سے آمدن حاصل ہو یا نہ ہو۔
غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت پر بلا آمدن ٹیکس بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ فرضی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی حقوق کے خلاف ہے اور ٹیکس کا اطلاق حقیقی آمدن پر ہونا چاہیے۔
پارلیمنٹ صرف انہی شعبہ جات میں قانون سازی کی اہل ہے جو وفاق کے ماتحت ہیں،پارلیمنٹ کو غیرمنقولہ جائیداد پربالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے پی ٹی سی ایل پنشنرز کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف بڑا بنچ بنانا ضروری نہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے، عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین کے تمام کیسز کو یکجا کرکے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سابق فاٹا کے دو ڈسپنسرز کی بحالی اور ریگولرائزیشن کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔