کراچی؛ پتھر مارنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے 19 سالہ نوجوان کو قتل کردیا

رواں سال شہرقائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پرجاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 39 ہو گئی


اسٹاف رپورٹر June 17, 2026
(فوٹو: فائل)

کراچی:

شاہ لطیف ٹاؤن  کےعلاقےعبداللہ گوٹھ میں دورانِ واردات پتھر مارنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل کردیا، جس کے بعد رواں سال شہرقائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 39 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق شہرقائد میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی صبح شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کے علاقے عبداللہ گوٹھ میں نامعلوم مسلح  ملزمان کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

اسپتال میں مقتول نوجوان کی شناخت 19 سالہ سید محمد رضوان ولد ناصرعباس کے نام سے کی گئی۔ مقتول نوجوان عبداللہ گوٹھ کا رہائشی تھا اوراس کا آبائی تعلق بہاولپورسے تھا اور وہ قومی شاہراہ پر واقع قاسم ٹیکسٹائل مل میں ملازمت کرتا تھا۔

جناح اسپتال میں مقتول کے بھائی سطان نے بتایا کہ صبح 7 بجے کے قریب ہم دونوں بھائی اوربہنوئی پیدل کام پرجانے کے لیے گھر سے نکلتے تھے۔ میں اورمیرابہنوئی آگے تھے جبکہ مقتول بھائی ہم سے پیچھے چل رہا تھا۔

اسی دوران راستے میں موٹرسائیکل سوار3مسلح ملزمان پہنچ گئے اوراسلحہ کے  زور پرہم سے انہوں نے موبائل فون چھین لیے۔  بھائی سید رضوان نے واردات ہوتی دیکھ کرڈاکوؤں کو پتھر مارا، جس پرڈاکوؤں نے فائرنگ کردی اورفرارہوگئے۔  فائرنگ کے نتیجے میں سینے پر گولی لگنے سے چھوٹا بھائی رضوان موقع پرجاں بحق ہوگیا۔  بھائی نے بتایا کہ مقتول رضوان کا موبائل فون ہجوم میں گرگیا تھا، جسے کوئی اٹھا کر فرارہوگیا۔

دوسری جانب ایس ایچ او ممتاز مروت کا کہنا ہے کہ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرلیے ہیں۔ پولیس کو جائے وقوع سے 4 گولیوں کے خول ملے۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول نوجوان کو ایک گولی سینے پرلگی جوجان لیوا ثابت ہوئی۔ پولیس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں واردات میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال شہرقائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پرجاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 39 ہو گئی  ہے۔