پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے، مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران آٹی ٹی شعبے کی برآمدات 4ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی جس میں فری لانسرز کی ایک ارب ڈالر مالیت کی برآمدی ترسیلات بھی شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات 4 ارب 18 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں آئی ٹی برآمدات 3 ارب 47کروڑ ڈالر تھیں۔
اس طرح مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ میں 70کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں پاکستان میں تیار ہونے والے سافٹ ویئر کمپنیوں اور فری لانسرز کی آمدن بھی شامل ہے۔
آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) کے چیئرمین ابراہیم امین نے آئی ٹی برآمدات میں اس اضافے کو پاکستان کی نوجوان نسل کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 99فیصد سے زائد ہنر مند افرادی قوت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
فری لانسرز نے آئی ٹی برآمدات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے ہر قصبے، دیہات اور شہر میں رہنے والے نوجوان فری لانسنگ کے زریعے اپنے اور ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمارہے ہیں اور رواں مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد برآمدات کرچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فری لانسرز اور ڈیجیٹل ورکرز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے کیونکہ طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد میں فری لانسنگ کے مواقع اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ابراہیم امین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پاکستانی فری لانسرز کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور آنے والے دنوں میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہوگی۔
آئی ٹی ایکسپورٹر ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ کرنے اور زیادہ زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت اگرچہ دستیاب ہے لیکن بعض ساختی کمزوریاں اس شعبے کو اپنی مکمل استعداد استعمال میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مقامی آئی ٹی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جاسکے اور برآمدات میں متاثر کن ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ افرادی قوت کو جدید اور مطلوبہ ڈیجیٹل تعلیم فراہم کی جائے۔ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور موجودہ منڈیوں میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرنے پر بھی توجہ دی جائے۔