تاجروں کیلیے متعارف کرائی گئی ٹیکس اسکیم ایمنسٹی نہیں، حکومت کی وضاحت

اسکیم کا مقصد تاجروں کو ایف بی آر کی مبینہ ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنا اور ں ٹیکس نظام میں شمولیت کی ترغیب دینا ہے


ارشاد انصاری June 17, 2026
فوٹو فائل

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیم ایمنسٹی نہیں ہے بلکہ ایک سالہ ٹیکس سہولت پروگرام ہے۔

وزیر مملکت خزانہ اور ایف بی آر حکام نے تاجروں کیلئے م تعارف کروائی جانیوالے سکیم بارے ایمنسٹی دیئے جانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی بھی صورت ایمنسٹی اسکیم نہیں ہے آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث حکومت نئی ایمنسٹی اسکیم متعارف نہیں کراسکتی۔

ٹیکس حکام نے وضاحت کی کہ ایمنسٹی اسکیم میں ذرائع آمدن نہیں پوچھے جاتے جبکہ موجودہ پروگرام میں ٹیکس دہندگان کو باقاعدہ گوشوارے جمع کرانا ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر آڈٹ بھی کیا جا سکے گا جبکہ وفاقی حکومت نے تاجروں کیلئے ایک سال کیلئے اسکیم متعارف کروائی ہے۔

اگر اسکیم ناکام ہوئی تو ختم کردی جائے گی اور اگر اس میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی تو وہ خامیاں دور کرکے اسے بہتر بناکر اگلے سالوں کیلئے بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے تاہم اس اسکیم کے تحت حکومت نے آئندہ مالی سال کے دورانبیس لاکھ ریٹیلرز کو پوائنٹ آف سیلز سسٹم میں رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم کوشش ہوگی کہ پیتیس لاکھ دکانداروں میں سے پچاس فیصد دکاندار اس اسکیم میں آجائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو تاجر اسکیم میں آنا چاہیں گے وہ ستمبر میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائیں گے اور اکتوبر نومبر میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ اسکیم کامیاب ہوئی ہے یا ناکام ہوئی ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق ابھی تک پوائنٹ آف سیلز سے محض 37 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، پوائنٹ آف سیلز کے اہداف میں ناکامی کے بعد رجسٹریشن کا طریقہ کار بدل دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہواا جلاس میں تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی۔

نئی ٹیکس اسکیم، ایف بی آر کی اصلاحات اور پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے دوران حکومت، ایف بی آر حکام اور کمیٹی اراکین کے درمیان اسکیم کی نوعیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر تفصیلی بحث ہوئی۔

اجلاس میں رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے موٴقف اختیار کیا کہ فکسڈ ٹیکس اسکیم کے نام پر تاجروں کو درحقیقت ایمنسٹی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ برسوں سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں اور ٹیکس چوری کرتے رہے ہیں انہیں خصوصی سہولتیں دی جا رہی ہیں جبکہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے شہری پہلے ہی موجودہ نظام کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے دکانداروں کو آڈٹ، پوائنٹ آف سیلز اور دیگر شرائط سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

اراکین کمیٹی کے تحفظات پروزیر مملکت خزانہ اور ایف بی آر حکام نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی بھی صورت ایمنسٹی اسکیم نہیں ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث حکومت نئی ایمنسٹی اسکیم متعارف نہیں کرا سکتی۔

ٹیکس حکام نے وضاحت کی کہ ایمنسٹی اسکیم میں ذرائع آمدن نہیں پوچھے جاتے جبکہ موجودہ پروگرام میں ٹیکس دہندگان کو باقاعدہ گوشوارے جمع کرانا ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر آڈٹ بھی کیا جا سکے گا۔

اجلاس میں وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد تاجروں کو ایف بی آر اہلکاروں کی مبینہ ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنا اور انہیں ٹیکس نظام میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

ان کے مطابق چھوٹے دکانداروں کو پوائنٹ آف سیلز اور بعض ودہولڈنگ ٹیکسز سے استثنا دیا گیا ہے جبکہ ان کی سہولت کے لیے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ٹیکس ریٹرن فارم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اسکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور جہاں ریٹرنز اور اثاثوں میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی وہاں آڈٹ کا اختیار برقرار رہے گا۔

کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں اس اسکیم کے نتیجے میں ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے لین دین میں اضافہ نہ ہو جائے۔ اس پر ایف بی آر کے ممبر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ ایف بی آر کو ستاون ممالک سے پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک اثاثوں اور جائیدادوں کا ڈیٹا موصول ہو رہا ہے اگر کوئی شخص بیرون ملک جائیداد یا اثاثے بنائے گا تو متعلقہ معلومات کی بنیاد پر اس کا سراغ لگایا جا سکے گا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف سرکاری اور مالیاتی ڈیٹا بیسز تک رسائی حاصل ہونے کے بعد حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔