خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ

جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے اسے منصب پر رکھنا عدالتی مفادات کے منافی ہے


کورٹ رپورٹر June 19, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید نے اہم فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو  اسے منصب پر برقرار رکھنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی محمد افضل زاہد کی برطرفی کا فیصلہ بحال کردیا جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی اپیل منظور کر لی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازم اور ایک جج کو برابر نہیں ٹھہرایا جاسکتا، سرکاری ملازم کی معمولی کوتاہی جبری ریٹائرمنٹ کا باعث بن سکتی ہے، ایک جج کی دیانت داری او ر ساکھ اہم ہوتی ہے، جج کی اہلیت کو اس کے فیصلوں کے ذریعے جبکہ اُس کی دیانت کو شہرت کے ترازو سے تولا جاتا ہے، درست فیصلہ دینے والا جج عوامی ذہن میں داغ دار ہو تو اُس کے فیصلے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا، جج کی دیانت اور ساکھ پر عوامی اعتماد نہ ہو تو اُس کا اثر قانون کی حکمرانی کے پورے ڈھانچے تک پھیل جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو اُس کا جج کے منصب پر برقرار رہنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے، بدنام یا کرپٹ جج کو عہدے سے ہٹانے پر عدالتی ادارہ صحت یاب ہونا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ مخصوص ٹیومر کو الگ کر دیا ہوتا ہے۔

9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، جج کی ساکھ پر سوال اٹھ جائے تو عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے، بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے، جج کی شہرت مشکوک ہو تو عوام کا انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے،عدلیہ کو صرف انصاف نہیں بلکہ انصاف کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، بدعنوانی ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت سنگین معاملہ ہے، خراب شہرت والے جج کی برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے، عدالتی منصب پر رہنے کے لیے بے داغ ساکھ ناگزیر ہے،جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کی عدالتی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو مراعات کے ساتھ ریٹائر نہیں کیا جا سکتا،عوامی اعتماد عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

سپریم کورٹ نے جج کی برطرفی کا محکمہ کارروائی کا 6 مئی 2013ء کا فیصلہ بحال کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جج کے لیے اچھی شہرت انصاف کی بنیادی شرط ہے۔ سپریم کورٹ نے جج کی سروس ٹریبونل کا جبری ریٹائرمنٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ میں کردار اور شہرت قانونی اہلیت جتنی اہم ہیں، جج کی بدنام شہرت عدالتی ادارے کے وقار کے منافی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ الزام تھا ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے اپنے سامنے زیر سماعت مقدمات میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی مراعات حاصل کیں،الزامات کی سنگینی کے پیش نظر تادیبی کارروائی سے قبل متعلقہ اتھارٹی نے سیشن جج کے عمل کی نگرانی کا فیصلہ کیا، رپورٹ میں بتایا گیا جج کی عدلیہ میں اچھی شہرت نہیں ہے، ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کے خلاف مس کنڈکٹ اور کرپشن کے الزامات کی انکوائری شروع ہوئی ، مجازاتھارتی نے جج کو ہٹانے کا فیصلہ دیا جسے ٹربیونل میں چیلنج کیا گیا، ٹربیونل نے قرار دیا جج پر غیر قانونی مراعات لینے کا الزام ثابت نہیں ہوتا، ٹربیونل نے جج کی داغدار شہرت کا الزام برقرار کھا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ منصفانہ تحقیقات اور ثبوتوں پر مشتمل نتائج ہوں تو ٹربیونل یا سپریم کورٹ بھی محکمانہ تحقیقات کے تنائج میں مداخلت نہیں کرتی، سروس ٹربیونل یا سپریم کورٹ وہاں مداخلت کرتی ہے جہاں حقائق پر مبنی نتائج کسی ثبوت کے بغیر ہوں یا بدنیتی پر ہوں عدالتی افسر کی خراب شہرت کا الزام ناقص تحقیقات کا نتیجہ نہیں اس لیے مداخلت نہیں کرسکتے۔