آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو 48 گھنٹے پہلے اجازت لینا ہوگی؛ ایران

امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آگئی


ویب ڈیسک June 19, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو گئی تاہم پاسداران انقلاب نے جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے نئی شرائط نافذ کر دی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند تمام تجارتی اور دیگر بحری جہازوں کو اپنی آمد سے کم از کم 48 گھنٹے قبل ٹرانزٹ کی درخواست جمع کرانا ہوگی۔

ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اتھارٹی نے کہا کہ درخواست کے ساتھ تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنا لازمی ہوگا تاکہ آبنائے ہرمز میں داخلے یا وہاں سے روانگی کے دوران کسی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔

نیوز ایجنسی کے رابطہ کرنے پر ایرانی حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بحری ٹریفک کو منظم بنانا، جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا اور اہم آبی گزرگاہ میں انتظامی مسائل سے بچنا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ معاہدے طے ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت شروع ہوگئی اور امریکا نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا بھر میں عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے اور جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں بند کردیا تھا۔

آبنائے ہرمز میں ایرانی بندش کے باعث دنیا بھر میں تیل و گیس کی ترسیل رک اور پیٹرول کی قلت کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی چیزوں پر بھی پڑا تھا۔

حالیہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت میں سب سے اہم نکتہ بھی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے اور امریکا کی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کے فوری خاتمہ تھا۔