اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کی شیڈول بینکوں سے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا تک رسائی کی تجویز مسترد کردی، کمیٹی ارکان نے کہا اس سے ٹیکس پیئر کو سسٹم میں جکڑا جائے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فائنانس بل 2026-27 پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے ٹیکس دہندگان پر آڈٹ نہ کرانے پر جرمانہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز منظور کرلی، غلط معلومات دینے پر بھی 75 ہزار روپے اضافی جرمانہ ہوگا، قابل ٹیکس آمدن اور اثاثے چھپانے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا کمیٹی نے تجویز منظور کرلی۔
ٹیکس پالیسی آفس کے ممبر نے کہا کہ قابل ٹیکس اثاثے چھپانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے جس پر کمیٹی ارکان حیرت میں مبتلا ہوگئے تاہم تجویز منظور کرلی۔
تاخیر سے ریٹرن فائلنگ پر ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے سر چارج میں اضافے کی تجویز منظور کر لی گئی۔
ایف بی آر کی شیڈول بینکوں سے شہریوں کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا مانگنے کی تجویز پر کمیٹی نے اعتراض اٹھا دیا۔ رکن کمیٹی شرمیلافاروقی نے کہا کہ وثوق سے کہہ سکتی ہوں ڈیٹا کا غلط استعمال ہوگا، ایف بی آر بینکوں سے کسی بھی شہری کا ڈیٹا نہیں لے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو روکتے ہوئے تجویز مسترد کر دی۔
شرمیلا فاروقی نے کہا قابل ٹیکس آمدن اور اثاثے ظاہر نہ کر کے قانون کا غلط استعمال میرا خاندان بھگت چکا ہے، الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم نصب نہ کرنے پر اداروں کے سربراہان کے خلاف ایکشن ہوگا تاہم کمیٹی نے ایف بی آر کی تجویز میں ترمیم کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے سربران کو نکال دیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا اس کا مطلب یہ ہے وزیراعظم سرکاری اداروں کے سربراہ ہیں کیا ایف بی آر وزیراعظم کو بلانا چاہتا ہے؟ ادارے 15 دن کے بجائے تین ماہ میں مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کے پابند ہوں گے۔
کمیٹی کو ایف بی آر نے بتایا کہ ملک میں دو بڑی کمپنیاں 365 ارب کا ٹیکس دیتی ہیں، دونوں کمپنیاں سگریٹ کے غیر قانونی اور ٹیکس چور کاروبار سے متاثر ہیں سگریٹ بنانے والی مشینیں ملک بھر میں پھیل چکی جنہیں پکڑنا چیلنج بن گیا ہے۔
کمیٹی نے غیر ملکی ڈراموں اور اشتہارات پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز منظور کرلی۔ درآمدی لگژری گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز منظور کرلی۔