اسلام آباد:
وزارت تجارت نے قائمہ کمیٹی میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ مقامی آٹو کمپنیاں بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزارت تجارت کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ قومی ٹیرف نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے ۔ ففتھ شیڈول کو بھی مکمل طور پر ریشنلائز کیا جائے گا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے گی جبکہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد 5 سالہ پابندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کی فلاح اور مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کو طویل عرصے سے غیر معمولی تحفظ حاصل رہا ہے جب کہ مقامی آٹو کمپنیاں بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد کی مخالفت کرتی رہی ہیں، گاڑیوں کی درآمد سے مسابقت بڑھے گی اور قیمتوں میں کمی آئے گی ۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت درآمدی ڈیوٹیوں میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی اور اوسط ٹیرف کو آئندہ 5 برسوں میں 20.19 فیصد سے کم کر کے 9.70 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کسٹمز ڈیوٹی کی اوسط شرح 11.93 فیصد سے کم کر کے 9.70 فیصد کی جائے گی جبکہ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کو 5 سال میں مکمل طور پر ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی مرحلہ وار صفر تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد معیشت میں مسابقت کو فروغ دینا ہے ۔ کسٹم ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح کو 15 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو 6 فیصد سے کم کر کے پہلے 4 فیصد، پھر 2 فیصد اور بعد ازاں صفر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 20 فیصد مقرر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1 فیصد، 2 فیصد اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔
حکام کے مطابق ٹیرف ریشنلائزیشن کے نتیجے میں قومی خزانے پر 143.4 ارب روپے کے ریونیو اثرات مرتب ہونے کا تخمینہ ہے۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ انڈسٹری کے لیے توانائی کی قیمتوں اور سہولیات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے اور ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں جیسی چین نے اپنی صنعتوں کو دی ہیں۔
رکن کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے سوال اٹھایا کہ کسٹم ڈیوٹیوں میں کمی سے ہونے والے ریونیو نقصان کا ازالہ کس طرح کیا جائے گا، جس پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے جواب دیا کہ ریونیو پورا کرنے کے لیے دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ریمارکس دیے کہ برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر مسلسل زور دیا جاتا رہا ہے ۔ موجودہ اقدامات درست سمت میں پیش رفت ہیں۔
رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے استفسار کیا کہ ڈیوٹیوں میں کمی اور اصلاحات کے نتیجے میں صارفین کی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور کیا اس حوالے سے کسی ایک سالہ تخمینے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد تھی جسے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ نیشنل ٹیرف پالیسی مختلف ٹیرف شرحوں کو مزید نیچے لانے کا عمل جاری رکھے گی۔
امریکی ٹیرف پالیسی کے حوالے سے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے سوال کیا کہ امریکہ نے پاکستان پر کیا محصولات عائد کیے ہیں؟۔
سیکریٹری تجارت نے جواب دیا کہ اس وقت 10 فیصد ٹیرف نافذ ہے جو تمام ممالک پر لاگو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے تھے، تاہم بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو ختم کر دیا تھا۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ریمارکس دیے کہ امریکہ تجارت کے معاملے میں ایک انتہا پسندانہ سمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔
بریفنگ کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے گی جبکہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد 5 سالہ پابندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سیکریٹری تجارت نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کی فلاح اور مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کو طویل عرصے سے غیر معمولی تحفظ حاصل رہا ہے ۔ مقامی آٹو کمپنیاں بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی درآمد سے مسابقت بڑھے گی اور قیمتوں میں کمی آئے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گاڑیوں کے معیار سے متعلق اسٹینڈرڈز کی تعداد 19 سے بڑھا کر 62 کر دی گئی ہے، جس پر رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے سوال اٹھایا کہ جب 19 اسٹینڈرڈز پر موٴثر عملدرآمد نہیں ہو سکا تو 62 اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد کیسے یقینی بنایا جائے گا۔