قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق اور 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

ایل این جی پلانٹ ایران جنگ کے باعث بند تھا اور اب دوبارہ آپریشن شروع کرنے کا عمل جاری تھا


ویب ڈیسک June 22, 2026

قطر کے صنعتی شہر راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹس میں سے ایک میں ہونے والے زوردار دھماکا سے خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

عرب میڈیا کے مطابق دھماکا بارزان گیس سپلائی مرکز میں اس وقت ہوا جب ایران جنگ میں پلانٹ کی بندش کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کرنے کا عمل جاری تھا۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا جس کے بعد پلانٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔

سول ڈیفنس اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ 13 ہلاکتوں اور 66 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں قطر، تنزانیہ، بھارت، پاکستان، گنی، نیپال، بنگلہ دیش، کینیا اور نائجیریا کے شہری شامل ہیں۔

ایل این جی کمپنی کا کہنا ہے کہ دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ دھماکے کا اثر برآمدی انفراسٹرکچر یا گیس کی سپلائی پر نہیں پڑا۔

قطر انرجی کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دھماکے کی اصل وجہ اور جاں بحق افراد کی مکمل شناخت سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

قطر انرجی نے عالمی منڈیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس حادثے کے باوجود قطر کی ایل این جی برآمدات، گیس پروسیسنگ کی سرگرمیاں اور راس لفان بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایل این جی کی پیداوار، پروسیسنگ اور برآمدات کے بڑے منصوبے قائم ہیں۔

واضح رہے کہ قطر دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں شامل ہے اس لیے اس مرکز میں پیش آنے والے اس بڑے حادثے نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے۔