جاپان نے اپنے ایک غیر معمولی اقدام میں ویزا فیسوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تقریباً 50 سال بعد پہلی بار قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان نے یکم جولائی سے سنگل انٹری ویزا کی فیس میں 5 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 3 ہزار ین سے بڑھا کر 15 ہزار ین جب کہ ملٹی انٹری ویزا کی فیس 6 ہزار ین سے بڑھا کر 30 ہزار ین مقرر کردی گئی۔
حکومت نے مزید بتایا کہ صرف ویزا ہی نہیں بلکہ دیگر امیگریشن فیسوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
نئے قانون کے تحت مستقل رہائش کی درخواست کی زیادہ سے زیادہ فیس 10 ہزار ین سے بڑھا کر 3 لاکھ ین تک کر دی گئی۔
اسی طرح رہائشی حیثیت تبدیل کرنے یا قیام کی مدت بڑھانے کی فیس بھی 10 ہزار ین سے سے بڑھا کر ایک لاکھ ین تک پہنچ گئی۔
جاپان کی غیرملکیوں کے لیے ویزا فیسوں میں یہ تبدیلی 1978 کے بعد پہلی مرتبہ کی گئی ہے جس کا مقصد افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیسوں کو موجودہ معاشی حالات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ترجمان حکومت نے بتایا کہ فیسوں میں اضافے سے اس بات کی توقع نہیں کہ اس اقدام سے فوری طور پر جاپان کی سیاحت پر کوئی منفی اثر پڑے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں جاپانی ین کی قدر مسلسل کمزور ہوئی ہے اور یہ تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کے بعد سیاحت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں جاپان میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جاپان نے 4 کروڑ 27 لاکھ (42.7 ملین) غیر ملکی سیاحوں کا استقبال کیا جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان اب اپنی امیگریشن اور ویزا فیسوں کو دیگر G7 ممالک جیسے امریکا اور برطانیہ کے معیار کے قریب لانا چاہتا ہے جہاں یہ فیسیں نسبتاً زیادہ ہیں۔