برطانیہ کے متوقع وزیراعظم نے رکن پارلیمان کا حلف اُٹھالیا

اینڈی برنہم نے 18 جون 2026 کو ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی


ویب ڈیسک June 22, 2026
برطانیہ کے ممکنہ نئے وزیراعظم نے رکن پارلیمان کا حلف اُٹھالیا

برطانیہ کے متوقع وزیراعظم اینڈی برنہم نے آج رکن پارلیمنٹ کا حلف اٹھا لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اینڈی برنہم نے برطانیہ کے ایوانِ زیریں ہاؤس آف کامنز میں رکن پارلیمان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ لیبر پارٹی کے ارکان نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور ایوان نعروں سے گونج اٹھا۔

حلف برداری کی تقریب کے دوران اینڈی برنہم نے روایتی انداز میں حلف لیا اور ایوان سے گزرتے ہوئے متعدد بار سر جھکا کر ارکان کے خیرمقدمی نعروں کا جواب دیا۔

بعد ازاں انھوں نے لنڈسے ہوئیلے سے خوشگوار ملاقات کی جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر میکرفیلڈ سے رکن پارلیمنٹ بن گئے اور یوں ان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔

اینڈی برنہم سے قبل دو دیگر نو منتخب ارکان لارا برڈ اور ڈگلس لمزڈن نے بھی رکنیت کا حلف اٹھایا۔

اینڈی برنہم کی واپسی کیوں اہم ہے؟

اینڈی برنہم برطانوی سیاست کا ایک معروف نام ہیں۔ وہ ماضی میں صحت، ثقافت اور داخلہ جیسے اہم محکموں کے وزیر رہ چکے ہیں اور اس وقت گریٹر مانچسٹر کے میئر ہیں۔

وہ عوام بالخصوص نوجوانوں میں اپنے اسٹائل، تقاریر اور انقلابی اقدامات کے باعث کافی مقبول ہیں تاہم حکمراں جماعت لیبر پارٹی کو ان کی کمی پارلیمنٹ میں محسوس ہو رہی تھی۔

چنانچہ میکرفیلڈ سے لیبر پارٹی کے ایم پی جوش سمنز نے اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا تاکہ اس حلقے میں ضمنی انتخاب کرایا جا سکے اور اینڈی برنہم امیدوار بن سکیں۔

خود جوش سائمنز نے کہا تھا کہ وہ برنہم کے لیے راستہ بنا رہے ہیں۔ لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نے برنہم کو اسی حلقے سے امیدوار نامزد کیا۔

اس حلقے پر 18 جون 2026 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ریفارم یوکے کے امیدوار سے 54 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

اس حلقے سے انتخاب جیتنے کے بعد اینڈی برنہم نے آج 22 جون کو ہاؤس آف کامنز میں حلف اٹھایا جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر ایم پی بن گئے اور اب جلد وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیں گے۔

برطانیہ کا نیا وزیراعظم کیسے منتخب ہوگا؟

برطانیہ میں وزیراعظم کا براہِ راست عوامی انتخاب نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے پہلے حکمران جماعت اپنے نئے قائد کا انتخاب کرتی ہے۔

اگر حکمران جماعت کے پاس ہاؤس آف کامنز میں اکثریت برقرار ہو تو اسی جماعت کا نیا قائد وزیراعظم بننے کا حق دار ہوتا ہے۔

نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد برطانیہ کے بادشاہ انھیں حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس کے بعد نیا وزیراعظم کابینہ تشکیل دیتا ہے۔

اگر کسی جماعت کی اکثریت ختم ہو جائے یا پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ حمایت نہ مل سکے تو ایسی صورت میں مخلوط حکومت، اعتماد کا ووٹ یا قبل از وقت عام انتخابات بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔