امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے معائنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گئی ہے اگر تہران نے کسی بھی معاہدے کی پابندی نہ کی تو وہی کریں گے جو ضروری ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے اور ایران اس معاملے میں بہت اچھا اقدام کر رہا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے طے شدہ معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کیا تو امریکا مناسب اور ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری پروگرام کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے معائنے پر رضامند ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ سب لوگ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ ایران مستقبل میں جوہری دیانت داری کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر ہتھیاروں کے معائنے پر رضامند ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے بھی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے لیے ملکی قوانین اور اعلیٰ قومی اداروں کے فیصلوں کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رکھے گا۔
ترجمان ایران نے واضح کیا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ تمام روابط اور معائنے ایرانی پارلیمنٹ کی منظوری اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے فیصلوں کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے اگرچہ ٹرمپ کے اس دعوے کی براہ راست تصدیق نہیں کی کہ ایران بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے معائنے پر متفق ہو گیا ہے تاہم اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے بین الاقوامی فرائض اور ملکی قوانین کے دائرہ کار میں تعاون جاری رکھے گا۔