یہ سب جائز ہے؟

پیپلز پارٹی میں اب اپنے جیالوں کی نہیں بااثر رہنماؤں کی قدر زیادہ ہے اور پی پی انھیں نوازتی اور اہمیت بھی دیتی ہے مگر (ن) لیگ میں ایسا نہیں ہے۔


[email protected]

جی بی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کامیابی اور مسلم لیگ (ن) کی دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں نے وفاق اور بلوچستان کے بعد گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے مل کر رہنے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت پیپلز پارٹی جی بی میں اپنا وزیر اعلیٰ اور اسپیکر منتخب کرائے گی جب کہ گورنر اور ڈپٹی اسپیکر مسلم لیگ (ن) سے لیا جائے گا۔

اس معاملے کے طے ہونے سے قبل میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ دس نشستیں رکھنے والی پیپلز پارٹی نے اپنا وزیر اعلیٰ لانے کے لیے پی ٹی آئی، آزاد ارکان اور مجلس وحدت مسلمین سے رابطہ کیا ہے جو پہلے ہی اتحادی ہیں اور پی ٹی آئی نے ہی سینیٹ میں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر بنوایا ہوا ہے اور دونوں پارٹیاں حکومت کے خلاف بھی متحد ہیں اور موجودہ حکومت کو غیر آئینی حکومت قرار دیتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں 2008 میں جنرل پرویز مشرف کو اور 2022 میں دوسری بار پی ٹی آئی حکومت ہٹانے پر اتحاد ہوا تھا اور دونوں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوئی تھیں اور نواز شریف پی ڈی ایم حکومت میں وزیر اعظم بنے تھے اور پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم سمیت دوسرے اتحادیوں نے اپنے اپنے حصے کی وزارتیں لی تھیں مگر 16 ماہ بعد مدت پوری ہونے کے بعد 2024 کے الیکشن کا اعلان ہوتے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کے وزیر خارجہ اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو مسلم لیگ (ن) کے سخت مخالف بن کر سامنے آئے تھے اور ملک بھر میں (ن) لیگی قیادت کے خلاف بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی اور وہ بھول گئے تھے کہ وہ شہباز کابینہ میں وزیر خارجہ رہے تھے۔ پیپلز پارٹی نے 2013 کی نواز شریف حکومت میں جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں بے مقصد مگر طویل دھرنا دیا تھا تو پی پی نے جمہوریت کے نام پر نواز شریف حکومت کی بھرپور حمایت کی تھی۔

2017 میں پیپلز پارٹی پھر (ن) لیگ کی مخالف ہو گئی تھی اور (ن) لیگی حکومت ختم کرانے کا دعویٰ کیا تھا اور پی ٹی آئی سے مل کر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ کو ہٹوا کر اپنا دعویٰ پورا کیا تھا مگر نواز حکومت نے پہلی بار پی پی حکومت کی طرح 2018 تک اپنی مدت پوری کی تھی۔ 2008 کی طرح پی پی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور 2013 کے وزیر اعظم نواز شریف کو عدلیہ نے مدت پوری کرنے نہیں دی تھی اور دونوں کی نااہلی پر پی پی اور (ن) لیگ کو اپنے نااہل قرار دیے گئے وزرائے اعظم کی جگہ راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو چند ماہ کے لیے اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف سے وزیر اعظم بنوایا تھا۔

سیاسی وفاداری دکھاتے ہوئے راجہ پرویز اشرف آج بھی پی پی میں اور رکن قومی اسمبلی ہیں جب کہ شاہد خاقان عباسی اپنی دیرینہ پارٹی سے روٹھ کر اپنی سیاسی پارٹی بنائے پریس کانفرنسوں تک محدود ہیں اور پارلیمنٹ سے باہر ہیں۔ پیپلز پارٹی میں دو سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور فیصل رضا عابدی ہوا کرتے تھے اور اہم رہنما تھے مگر بعدازاں اختلافات پر پی پی نے دونوں سے استعفیٰ لے لیے تھے جس کے بعد دونوں کسی پارٹی میں خود نہیں گئے۔

(ن) لیگ نے غیر سیاسی صنعت کار مفتاح اسمٰعیل کو پارلیمنٹ کا رکن نہ ہونے پر وزیر خزانہ بنوایا تھا اور چھ ماہ میں ہٹا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بھی (ن) لیگ کے مخالف اور شاہد خاقان عباسی کی پارٹی میں ہیں اور دونوں اپنی اپنی پارٹی پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

(ن) لیگ نے زبیر عمر کو سندھ کا گورنر بنایا تھا جو (ن) لیگ کے اہم رہنما تھے اور اب پی ٹی آئی کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنی پرانی پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے برعکس مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ۔ چوہدری برادران، شیخ رشید، چوہدری نثار و دیگر (ن) لیگ چھوڑ گئے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 2018 تک (ن) لیگ کی وفاقی حکومت میں نظر انداز کیے جانے کے باعث سندھ سے (ن) لیگ کا صفایا پیپلز پارٹی نے کرا دیا تھا اور سابق (ن) لیگی سندھ کے رہنما آج پیپلز پارٹی میں اور وزیر بھی ہیں۔

 سنتے تھے کہ عشق اور محبت میں سب جائز ہے مگر اب ثابت ہو گیا ہے کہ سیاست میں بھی سب کچھ جائز ہے جہاں اصول کم اور ذاتی مفادات پہلے دیکھے جاتے ہیں۔ اصول پرست سیاسی رہنماؤں کی بھی کمی نہیں اور وہ نظرانداز اور ناانصافی کے باوجود اپنی پارٹی ہی میں رہ رہے ہیں جن میں میاں رضا ربانی اور چوہدری اعتزاز نمایاں ہیں۔

پیپلز پارٹی میں اب اپنے جیالوں کی نہیں بااثر رہنماؤں کی قدر زیادہ ہے اور پی پی انھیں نوازتی اور اہمیت بھی دیتی ہے مگر (ن) لیگ میں ایسا نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں نے بھی ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک سیاسی وفاداری تبدیل کرنا جائز نہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے سیاسیاختلافات پر اپنے بھائی چوہدری شجاعت اور (ق) لیگ کو چھوڑا تھا آج کل وہ پی ٹی آئی میں سرگرم نہیں مگر وفا نبھا رہے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے (ن) لیگی قیادت کی جلاوطنی میں (ن) لیگ سنبھالی اور جنرل پرویز کے مظالم برداشت کیے مگر بعد میں (ن) لیگ، پی ٹی آئی میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نمایاں ہے سیاسی وفاداری بدلنے کی وجہ مفادات ہی نہیں انھیں نظرانداز کرنا بھی ہوتا ہے اور سب سیاست میں سب کچھ جائز نہیں سمجھتے مگر ایسے رہنما کم ہیں؟