پاکستان فٹبال ٹیم اگرچہ فیفا کی عالمی رینکنگ میں انتہائی نچلے درجے پر ہے اور کبھی ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی بھی نہ کرسکی تاہم یہ ایونٹ یہاں کے کروڑوں مداحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
پاکستان میں فٹبال کے جنون کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہر قائد کے علاقے لیاری کو ’منی برازیل‘ بھی کہا جاتا ہے۔
لیاری میں بڑی اسکرینز لگاکر بالخصوص برازیل اور ارجنٹینا کے میچز کو ضرور دیکھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لیاری سے منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نبیل گبول نے فیفا کے صدر کو خط لکھا ہے کہ وہ آکر دیکھیں لیاری کے اسٹیڈیم بین الاقوامی معیار کے ہیں یا نہیں۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ لیاری میں ہمارے پاس پیپلز اسٹیڈیم اور لیاری انٹرنیشنل اسٹیڈیم دو ایسے اسٹیڈیمز ہیں جہاں انٹرنیشنل ٹیمیں کھیل سکتی ہیں۔
نبیل گبول نے کہا کہ اگلے فیفا ورلڈکپ میں آپ پاکستان کی بھی نمائندگی دیکھیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں رکن سندھ اسمبلی سجاد سومرو کے طنز پر جواب دیتے ہوئے کیا۔
یاد رہے کہ نبیل گبول نے چند روز قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر کبھی فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کا موقع ملا تو ہمارے پاس لیاری میں اس کے لیے گراؤنڈ موجود ہے۔
نبیل گبول کے اس دعوے پر رکن سندھ اسمبلی سجاد سومرو نے طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا تھا کہ اگر اس اسٹیڈیم میں ورلڈکپ کا میچ ہو، میسی واش روم جائے اور وہاں پانی نہ ہوا تو اس کا جواب کون دے گا۔
سجاد سومرو نے کہا کہ کیا آپ رونالڈو اور نیمار کو بھی وہی پانی پلائیں گے جو لیاری کی عوام کو پلاتے ہیں۔
انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا آپ ٹیموں کو اسی روڈ پر سے گزار کر لے جائیں گے جہاں سے ہم لیاری جاتے ہیں۔