وینزویلا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آنے والے حالیہ زلزلوں کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آخر زلزلے کیوں آتے ہیں اور زمین اچانک کیوں لرزنے لگتی ہے؟
ماہرین ارضیات کے مطابق زمین کی بیرونی سخت تہہ کئی بڑے اور چھوٹے ٹیکٹونک پلیٹس پر مشتمل ہے جنہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بہت بڑے ٹکڑوں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔
یہ پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں اگرچہ ان کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے اور یہ سال بھر میں صرف چند سینٹی میٹر ہی سرکتی ہیں تقریباً اتنی ہی رفتار سے جتنی تیزی سے انسان کے ناخن بڑھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب دو ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے قریب آتی، دور ہوتی یا ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتی ہیں تو بعض اوقات ان کے کنارے آپس میں پھنس جاتے ہیں۔ اس دوران پلیٹوں کی حرکت رک جاتی ہے لیکن ان کے اندر دباؤ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔
جب یہ دباؤ ایک حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو پلیٹیں اچانک اپنی جگہ سے سرک جاتی ہیں یا پھسل جاتی ہیں جس سے برسوں یا دہائیوں سے جمع ہونے والی توانائی چند لمحوں میں خارج ہو جاتی ہے۔
توانائی کے اسی اخراج سے زمین میں شدید ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور زمین لرزنے لگتی ہے جسے ہم زلزلہ کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ پلیٹوں میں کتنا دباؤ جمع ہوا تھا اور وہ کتنی شدت سے اپنی جگہ سے تبدیل ہوئیں۔
وینزویلا میں زلزلے کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق شمالی وینزویلا کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ کی سرحد پر واقع ہے۔ ان دونوں پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث اس خطے میں وقتاً فوقتاً دباؤ پیدا ہوتا رہتا ہے جو اچانک خارج ہونے پر زلزلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وینزویلا اور اس کے گرد و نواح کے علاقے زلزلوں کے لحاظ سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ موجودہ سائنس زلزلوں کے اسباب اور خطرناک علاقوں کی نشاندہی تو کر سکتی ہے لیکن اب تک ایسی کوئی قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی موجود نہیں جو یہ درست طور پر بتا سکے کہ زلزلہ کب، کہاں اور کتنی شدت کا آئے گا۔