کراچی:
انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں قتل اور اقدام قتل کے مقدمے میں گرفتار 2 وکلا ادریس اور سلیمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر سے مقدمے کا چالان طلب کر لیا۔
سماعت کے دوران ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک مقدمہ ختم ہوتے ہی انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ وہ انصاف کے لیے جدوجہد کرتے ہیں لیکن آج انہیں ہی سزا دی جا رہی ہے۔
ملزمان کے وکیل عامر نواز وڑائچ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ 2022 کا مقدمہ ہے اور اس میں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت قائم کیا گیا ہے اور وکلا کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وکلا پہلے کورنگی ریلی کیس میں وکالت کر رہے تھے، اس مقدمے میں تمام ملزمان بری ہو چکے تھے، لیکن اب انہی وکلا کو ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے دفعہ 53 کے تحت بھی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو مخبرِ خاص کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا اور گزشتہ روز ان کا راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ لانڈھی میں 2 گروہوں کے درمیان فائرنگ کے واقعے میں راہگیر سیف الدین جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے، اسی مقدمے میں مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ جب ملزمان پہلے سے ان کی تحویل میں تھے تو اس دوران تفتیش کیوں نہیں کی گئی اور جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کی کیا وجہ ہے۔
سرکاری وکیل نے مزید تفتیش کی ضرورت پر زور دیا، تاہم عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا اور آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے مقدمے کا چالان طلب کر لیا۔