فیفا ورلڈکپ: مسلم کھلاڑیوں کیلیے ’پلیئر آف دی میچ‘ ٹرافی میں بڑی تبدیلی کردی گئی

فیفا ترجمان کے مطابق منتخب کھلاڑی کی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور بیک ڈراپ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے


اسپورٹس ڈیسک June 27, 2026

فیفا نے 2026 فیفا ورلڈکپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے ’پلیئر آف دی میچ‘کی تقریب اور ٹرافی میں اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت منتخب کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جارہی ہے۔

یہ تبدیلی اس وقت نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول کرنے پر ’مین آف دی میچ‘ کا اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ تقریب کے دوران عام طور پر موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو ہٹا کر اس کی جگہ غیر جانبدار ’سپیریئر پلیئر آف دی میچ‘ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی برانڈنگ استعمال کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ دیا گیا۔

فیفا کے ترجمان کے مطابق منتخب کھلاڑی کی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اسی پالیسی کا اطلاق ان کھلاڑیوں پر بھی ہوتا ہے جو قانونی طور پر شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔

یاد رہے کہ 2018 ورلڈ کپ میں مصر کے گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ قبول نہ کرنے پر عالمی توجہ حاصل کی تھی۔