دنیا میں اس وقت تین الہامی مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام موجود ہیں۔ یہودیت کی تاریخ سب سے پرانی ہے جب کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہودیت میں باطل عقائد کے خاتمے کے لیے آئے تھے، وہ کوئی نئی شریعت نہیں لیکر آئے تھے لیکن ان کے سب سے بڑے دشمن خود یہودی تھے جنھوں نے ان پر سب سے زیادہ مظالم ڈھائے۔
عیسائیوں نے عروج ملنے پر یہودیوں پر ظلم کی انتہا کردی جو دوسری جنگ عظیم تک جاری رہا۔ یہودی مسلمانوں کے دشمن کیوں ہے؟ اور وہ کیوں مسلمانوں کی زمینوں پر قابض ہونا چاہتے ہیں؟ عظیم تر اسرائیل ایک مفروضہ ہے یا حقیقت اور یہی ہماری تحریر کا موضوع ہے۔
ہم پہلے اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ یہودی مسلمانوں کے دشمن کیوں ہے؟ یہودیوں کو آخری نبی کے آنے کا پورا یقین تھا لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ نبی ان میں سے ہوگا یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہوگا۔
جب ایسا نہیں ہوا تو انھوں نے ہر موقعے پر مسلمانوں کے دشمنوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازش کی اور مسلمانوں کو دھوکہ دیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں سے پہلے یہودی اللہ کی لاڈلی قوم تھی اور ان کو سمجھ آگیا تھا کہ اسلام کے بعد اب وہ اللہ کی لاڈلی قوم نہیں رہے ہیں۔
عظیم تر اسرائیل ایک مفروضہ ہے یا حقیقت؟ اب ہم اس سوال کے جواب کی جانب آتے ہیں۔ عظیم تر اسرائیل کے قیام کا اظہار ایک خواہش ہے کہ جس کے بیشمار مذہبی اور سیاسی پہلو ہیں۔ بعض اوقات یہ لفظ تورات میں مذکور سرزمین موعود کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
موجودہ وقت میں اس کی سادہ ترین سیاسی تشریح ملک اسرائیل اور سرزمین فلسطین کی تمام حدود ہیں۔ اب ہم اسرائیل کے عظیم تر اسرائیل کے دعوے کی جانب آتے ہیں۔ جنوری 2025 میں اسرائیل کے سرکاری سماجی ذرائع ابلاغ اکاؤنٹس(عربی صفحات) سے ایک نقشہ شائع کیا گیا۔ اس میں مقبوضہ فلسطین، اردن، شام، لبنان، عراق اور سعودی عرب کے علاقوں کو اسرائیل کی حدود میں دکھایا گیا، جس پر عرب دنیا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
اس نقشے کے ساتھ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مملکت اسرائیل تقریباً تین ہزار سال پہلے قائم ہوئی اور اس کے پہلے تین بادشاہوں میں شاہ شاؤول، شاہ داؤد اور شاہ سلیمان شامل تھے جنھوں نے مجموعی طور پر 120 سال تک حکمرانی کی۔
ان کے دور میں یہودی ثقافت، مذہب اور معیشت میں ترقی ہوئی بعد میں یہ سلطنتیں اندرونی خلفشار کی وجہ سے تباہ ہوگئیں اور بعد ازاں جلاوطنی کے دوران یہودی قوم اپنی ریاست کی بحالی کی کوشش کرتی رہی اور بالآخر ان کی جدوجہد کے نتیجے میں 1948 میں ریاست اسرائیل کا قیام ہوا، جو آج مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہے۔
دنیا میں اس وقت دو نظریاتی ریاستیں قائم ہیں۔ ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان اور دوسری دولت اسرائیل یا اسٹیٹ آف اسرائیل۔ اسرائیل نے اپنی آزادی کے فوراً بعد اپنی نظریاتی اور ریاستی توسیع کے لیے عربوں کے ساتھ ایک نہ ختم ہونے والا جنگوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، جو اب تک جاری ہیں۔ اسرائیل نے اپنی آزادی کے بعد سے اب تک آٹھ بڑی باضابطہ جنگیں لڑی ہیں۔ غزہ کے ساتھ 2008 سے جو جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ تاحال جاری ہے اس میں 2023 سے شروع ہونے والی طویل جنگ بھی شامل ہے۔
دنیا کی تاریخ میں یہودیوں پر سب سے زیادہ ظلم یورپی اقوام نے کیا اور بعد ازاں ان سے اپنی جان چھڑا کر انھیں مشرق وسطیٰ میں ایک ریاست دیکر اکٹھا کردیا۔ یہودیوں نے بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور نہ صرف خود کے لیے ایک ریاست حاصل کرلی بلکہ ہولوکاسٹ کے مظالم دکھا دکھا کر پورے یورپ کو اپنی توسیع میں اپنا حامی اور طرفدار بنالیا اور امریکا تو ویسے بھی ہر طرح سے اس کا شریک کار رہا۔
اب تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہونے جارہا ہے کہ یورپ نے اپنی حمایت واپس لے لی ہے اور اب غزہ کے خون کے چھینٹوں نے ہولوکاسٹ کے مظالم کو دھندلا دیا ہے اور اب مہذب دنیا کو ہولوکاسٹ کے مظالم نہیں بلکہ غزہ میں ہونے والا غیر انسانی سلوک اور ظلم و ستم نظر آرہا ہے۔
غزہ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے چیتھڑے نظر آرہے ہیں اور اسرائیل ایک خون آشام درندے کے طور پر نظر آرہا ہے کہ جس کے منہ سے ہر وقت خون ٹپک رہا ہوتا ہے۔ اس وقت امریکی صدر اور نائب صدر بھی جس لب و لہجے میں اسرائیل سے بات کررہے ہیں، اس کی بھی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کو چھوڑ چکا ہے اور اب امریکا بھی پر تول رہا ہے کیونکہ اس دفعہ بات خود امریکا کے بقا کی ہے۔ امریکا کی اس خوبی سے دنیا بخوبی واقف ہے کہ امریکا اپنے دوستوں کو اپنا دشمن بنانے میں ذرا بھی وقت نہیں لگاتا، اگر حالات امریکا اور اسرائیل کے درمیان اسی طرح چلتے رہے تو ہوسکتا ہے ہم یہ بھی ہوتے دیکھے۔ ویسے بھی دنیا میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور ہر تعلق مفادات کے تابع ہوتا ہے۔
یوں سمجھ لیجیے کہ حالیہ ایران امریکا جنگ جو اسرائیل کی ایما پر شروع ہوئی تھی ،یہ جنگ اسرائیل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ اس جنگ نے جہاں امریکی جنگی مشین کو بالکل برہنہ کردیا ہے اور ان کے اسلحے کے ذخیروں کو ویران کردیا ہے۔
خود امریکا کے جنگی ماہرین بتا رہے ہیں کہ ان ذخیروں کو جنگ سے پہلے والی حالت میں لانے کے لیے انھیں سالوں چاہیے اور اسی لیے لگاتار امریکا جنگ سے کنی کترا رہا ہے۔ امریکا کو یہ ماننے میں شاید ابھی کئی سال لگ جائیں گے کہ وہ اب اکلوتا سپر پاور نہیں رہا ہے اور اسرائیل کی بے جا حمایت اس کے اپنے لوگوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن رہی ہے۔
امریکا کا اسرائیل کی حمایت سے پیچھے ہٹنا یا اس کی حمایت میں کمی کرنے سے اسرائیل کے عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
دنیا میں ایک وقت میں جوئش پروٹوکول نامی کتابچے کا بہت چرچا رہا تھا۔ یہ ایک متنازعہ کتابچہ ہے جو بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آیا کہ جس کے تحت دنیا کے مالیاتی نظام پر قبضہ اور عالمی حکومت کا قیام وغیرہ شامل ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کو روس کی خفیہ پولیس نے 1903 میں تیار کیا تھا۔
قطع نظر اس کے جوئش پروٹوکول حقیقت ہے یا افسانہ لیکن اس طالب علم کی رائے میں اسرائیل نے جو وسیع ہونا تھا وہ ہوچکا اور اب یہاں سے اس کی واپسی کا سفر شروع ہوگا۔
عظیم تر اسرائیل کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے جو عروج حاصل کرنا تھا کرلیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں ایران امریکا جنگ سے پہلے اسرائیل کی جو سرحدیں تھی اوریہی اس کی انتہا رہے گی، اب یہاں سے اگر مسلم امہ نے اپنے کارڈز دانشمندی سے کھیلے تو نہ صرف فلسطینیوں کے لیے ایک خطہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔
دنیا نے سمجھ اور مان لیا ہے ایک مضبوط اور طاقتور اسرائیل صرف عربوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور شانتی کے لیے خطرہ ہے اور دنیا متفق ہے کہ اب اسرائیل کو دنیا کے لیے خطرہ نہیں بننے دیا جائے گا۔