امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر کافی سرگرم رہے اور یکے بعد دیگرے کی گئی ٹوئٹس میں سیاست اور مفاہمت کے میدان میں ہلچل مچادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مسلسل کی گئی سوشل میڈیا ٹوئٹس میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تازہ پیشرفت اور پیٹرول قیمتوں سے متعلق آگاہی دی۔
ایران نے ملاقات کی درخواست کر دی
اپنی پہلی اور اہم ترین ٹوئٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے جو کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوگی۔
اپنی اس مختصر ترین ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے اس مجوزہ ملاقات کے ایجنڈے یا اس میں شریک وفود کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے جا رہی ہیں
صدر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکی خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی اور مزید نیچے جا رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سہرا لیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ خام تیل کی موجودہ قیمت ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے عمل کے آغاز سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہوچکی ہے۔
تیل کمپنیوں اور پیٹرول پمپ مالکان کو تنبیہ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ اگر ریٹیل سطح پر کوئی غیر ضروری منافع خوری یا زیادتی ہو رہی ہو تو اس کی اطلاع دی جائے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل محکمہ انصاف کو بھی ہدایت کرچکے ہیں کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچانے والی کمپنیوں اور پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا سہرا اپنی انتظامیہ اور ایران کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے کے سر باندھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس پیش رفت کے باعث پیٹرول کی قیمتیں بھی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔
اپنی مقبولیت میں اضافے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے اپنی ایک اور پوسٹ میں کہا کہ امریکا میں ان کی مقبولیت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی حتیٰ کہ گزشتہ صدارتی انتخاب کے دن 5 نومبر کی نسبت بھی زیادہ ہے۔
ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے
ٹروتھ سوشل پر اپنے ان تازہ بیانات کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ آج عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 73 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 69 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ جنگ کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد کمی آ چکی ہے۔