بلوچستان کے علاقے دشت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے تاجر علی مرتضیٰ کے والد جمیل نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد میری بہو دونوں بچیوں کے ساتھ 5 گھنٹے تک اکیلی رہی اور اُس نے بچی کو تلقین کی تھی کہ مجھے کچھ ہوجائے تو پھپھو کے نمبر پر کال کردینا۔
کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام کے ہمراہ دشت میں شہید تاجر علی مرتضیٰ کے بھائی اور والد نے پریس کانفرنس کی۔
شہید تاجر کے والد جمیل نے کہا کہ میری بہو پانچ گھنٹے تک واقعے کے بعد بچوں اور شوہر کی لاش کے ساتھ اکیلی رہی اور اپنی بچی کو تلقین کرتی رہی کہ مجھے کچھ ہو جائے تو پھپھو کے نمبر پر کال کرتی رہنا جبکہ صبح 6 بجے کے بعد اُس نے اپنی وصیت لکھوانا شروع کردی تھی۔
والد نے کہا کہ بلوچستان حکومت رابطے میں اور مکمل انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروا رہی ہے، مگر اس سانحے کا کوئی ازالہ نہیں اور جو کچھ بھی ہوا بہت غلط ہوا، آئندہ کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں تو اسکو بند کردیں، علی سے 7 محرم کو ملاقات ہوئی تو اُسے کوئٹہ جانے سے روکا اور منع کیا تھا کہ مت جانا مگر وہ کوئٹہ جاتے ہوئے بہت خوش تھا، اس نے وہاں جا کر رابطہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ واپس نکلنے سے قبل جب آخری بار بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ کھانا کھا کر نکلتا ہوں، وہ رات کو وہاں سے نکلا پھر یہ حادثہ ہوگیا، جس کے بعد میری بہو نے کال کی اس دوست کو اور صورتحال کا بتایا۔
والد کے مطابق بہو نے بتایا کہ 5 گھنٹے ہوگئے کوئی بچانے والا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ گاڑی مل گئی لیکن بہو اور بچیاں نہیں ملیں پھر 15 منٹ بعد معلوم ہوا کہ میری بہو اور بچیاں مل گئیں۔ میری بہو نے بتایا کہ اسکو پانچ گولیاں لگی ہیں۔
والد علی مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے تاحال داد رسی نہیں کی۔
شہید تاجر علی مرتضی کے بھائی نے کہا کہ رات ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک میری بھابھی اور بچیاں اکیلے تھے۔ پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں نے کہا کہ جب تک سورج نہیں نکل جاتا ہم اس مقام پر نہیں جا سکتے۔
کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام نے کہا کہ دشت میں واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی اہل خانہ سے تعزیت کیلیے آرہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ جہاں سانحہ ہوا ہے اس جگہ کو ہمارے کراچی کے تاجر کے نام سے منسوب کیا جائے۔
منہاج گلفام نے کہا کہ ہمارا کراچی کا تاجر لاوارث نہیں تھا، حکومت سندھ نے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا، تاجر برادری ٹیکس دیتی ہے، امن برقرار رکھنے کیلئے قربانیاں دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، آرمی چیف، محسن نقوی،حکومت سندھ سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، بچوں کی کفالت کی مکمل ذمہ داری حکومت اٹھائے، وزیر داخلہ، وزیر اعلی سندھ متاثرہ خاندان کی دادرسی کریں۔
شہید تاجر کے تایا والد جمیل کے بڑے بھائی نے کہا کہ ہم غم زدہ ہیں، ہمارے خاندان کا لاڈلہ اور سب کے کام آنے والا بیٹا چلا گیا، یہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے، ہمارے بیٹے کا نام زندہ رکھا جائے، بلوچستان حکومت بہت تعاون کررہی ہے۔

دوسری جانب علی مرتضیٰ کے بھائی طلحہ جمیل نے سوشل میڈیا پر ہونے والوں دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ دو گھنٹے میں مدد کو پہنچ گئے تھے جبکہ ایسا نہیں ہوا اور حکام سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے ہمیں جواب دیا تھا کہ صبح ہونے کے بعد ہی وہاں پہنچ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھائی کی لاش منتقلی کیلیے ایئرایمبولینس فراہم کرنے کا دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ ہم نے خود ہی جہاز کا ٹکٹ کروا کر سارے بندوبست کیے۔ طلحہ جمیل نے یہ بھی کہا کہ ہم سے غلط بیانی کی گئی کہ بھائی کو اغوا کیا گیا ہے اسی غلط بیانی کی وجہ سے ہم نے اپنا بھائی کھو دیا ہے۔
طلحہ نے اپیل کی کہ اس وقت ہم بہت غمزدہ ہیں اور انصاف کے متقاضی ہیں لہذا بغیر تصدیق خبریں پھیلا کر ہمارے غم اور دکھ کو مزید بڑھاوا نہ دیں۔

اُدھر بلوچستان کے علاقے دشت کے تھانے میں واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعہ کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔ جس میں نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔