ناممکن تعبیر کے انتخابی خواب

سندھ میں تو پی پی کی چوتھی مسلسل حکومت ہے جب کہ بلوچستان میں پی پی کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے ہیں


[email protected]

پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کی طرف سے انتخابی خواب دکھانے کا انتخابی موسم ابھی دور ہے اور پاکستان کے عوام ابھی 8 فروری 2024 سے قبل کے ان انتخابی خوابوں کی تعبیر کے منتظر ہیں جو انھیں پیپلز پارٹی کی قیادت نے دکھائے تھے جن میں عوام کو دو سو یونٹ ماہانہ مفت بجلی دینے کے انتخابی وعدے بھی شامل تھے جب کہ دیگر دکھائے جانے والے خواب الگ تھے مگر چونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کا اپنا خواب تعبیر نہ پا سکا تھا، اس لیے وہ عوام کو دکھائے جانے والے اپنے خواب بھول گئے جو انھیں اب تک یاد نہیں آئے۔

وہ اگر چاہتے تو صرف ایک مفت بجلی فراہم کرنے کا خواب بلوچستان اور سندھ میں شرمندہ تعبیر کرا سکتے تھے جہاں ان کے اپنے وزرائے اعلیٰ موجود ہیں۔ سندھ میں تو پی پی کی چوتھی مسلسل حکومت ہے جب کہ بلوچستان میں پی پی کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین سندھ میں جے یو آئی اور جے ڈی اے، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سندھ میں پی پی حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر واویلا کرتے آ رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی کرپشن کی شکایات کم نہیں ہیں۔

سندھ میں پی پی کی چوتھی حکومت پہلے کی تین حکومتوں سے بھی بھاری مینڈیٹ کی حامل ہے اور سندھ سے پی پی کے جتنی بڑی تعداد میں امیدوار قومی اور سندھ اسمبلی میں پہنچے تھے اتنی بڑی تو کیا سادہ کامیابی مسلم لیگ (ن) کو وفاق میں نہیں ملی تھی اور پی پی امیدواروں کی کامیابی سب سے زیادہ تھی۔ 2024 میں مسلم لیگ (ن) اپنے قائد کو وزیر اعظم دیکھنے کی خواہاں تھی اور میاں صاحب چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لیے پاکستان واپس آئے تھے۔

میاں شہباز شریف چونکہ خود 16 ماہ وزیر اعظم رہ چکے تھے اور بڑے بھائی کی موجودگی میں وہ دوبارہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے، اس لیے انھوں نے اپنی انتخابی مہم صرف اپنے حلقوں تک محدود رکھی تھی، اس لیے انھوں نے اپنی 16 ماہ کی حکومت میں عوام کو دوبارہ خواب دیکھنے سے گریز کیا تھا۔ بلاول بھٹو نے سندھ سے زیادہ توجہ پنجاب کو دی تھی اور وہ خود بھی لاہور سے الیکشن لڑ رہے تھے ،انھوں نے عوام کو مستقبل کے اچھے خواب دکھانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تھی ۔ انھیں اپنے نانا کا انتخابی منشور روٹی، کپڑا اور مکان اب گلگت کی انتخابی مہم میں دہرایا ہے۔

2024 میں بلاول بھٹو کی انتخابی مہم صرف مسلم لیگ (ن) پر بھرپور تنقید تک محدود تھی جس کی حکومت میں وہ خود وزیر خارجہ تھے اور ان کا زیادہ وقت بیرون ملک دوروں پر گزرا تھا اور انھوں نے اپنی حکومت پر 16 ماہ میں کوئی تنقید کی تھی نہ انھیں مسلم لیگ (ن) میں کوئی برائی نظر آئی تھی اور پی پی ، (ن) لیگی حکومت کی اتحادی تھی اور اس اتحاد میں مولانا فضل الرحمن بھی تیسرے بڑے اتحادی تھے جنھیں 8 فروری کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پی پی نے ایسے بھلا دیا تھا جیسے دونوں کا کوئی تعلق ہی مولانا سے نہ رہا ہو۔

یہ سب سیاست ہے جہاں اقتدار اور سیاسی مفادات اہم ہوتے ہیں اور کسی کو اخلاقی اصول بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ ابھی چند روز قبل وہ پی ٹی آئی کی مخالفت میں ایک تھے۔ مولانا فضل الرحمن بھی حکومت کے اتحادی تھے، پیپلز پارٹی اپنے امیدوار کو وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ ایسی سیاسی صورت حال جس میں مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں مرضی کی نشستیں نہ لے سکی تھی دیکھ کر میاں نواز شریف کا چوتھی بار اقتدار کا خواب پورا نہ ہو سکا تھا، اس لیے پیپلز پارٹی نے پھر میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف زرداری کو دوسری بار صدر مملکت بنانے کا منصوبہ بنایا جو کامیاب رہا۔ نواز شریف نے پنجاب میں اپنی بیٹی کو وزیر اعلیٰ بنوانے پر اکتفا کیا اور جے یو آئی کے بغیر پھر پی پی اور (ن) لیگ اتحادی بن گئے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت شہباز حکومت میں آئینی عہدے لیے اور وزارتوں سے دور رہے اور پی پی کا دعویٰ ہے کہ وہ (ن) لیگی حکومت میں شامل نہیں صرف اتحادی ہے۔

 تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو ملک کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتی ہے، اسی مصلحت کے تحت پیپلز پارٹی کی قیادت نے پیپلز پارٹی کے لیے وزارتیں نہیں لیں تاکہ آئندہ الیکشن میں وہ اس بات پر پی پی کی انتخابی مہم چلا سکیں کہ ہم حکومت کی صرف حمایت کر رہے تھے تاکہ جمہوریت چلتی رہے مگر ہماری حمایت کے باوجود (ن) لیگ کی حکومت ڈلیور نہ کر سکی اور اس نے ملک میں صرف مہنگائی اور بے روزگاری بڑھائی اور عوام کو کوئی بھی ریلیف نہ دے سکی جس میں پی پی کا کوئی قصور نہیں جس کے پاس صرف آئینی عہدے تھے اور حکومت چلانے کا اختیار مسلم لیگ ن کے پاس تھا اور ناکامی کی ذمے دار (ن) لیگ ہے پیپلز پارٹی نہیں۔ اس لیے اب ہمیں موقعہ دیں تاکہ بلاول بھٹو وزیر اعظم بن کر ملک کی قسمت سنوار سکیں۔پیپلز پارٹی نے سندھ و بلوچستان کے عوام کی جو قسمت سنواری اور پی ٹی آئی نے کے پی میں جو کارکردگی دکھائی وہ تو سب پر عیاں ہے مگر مریم نواز نے ضرور پنجاب میںبہتر کارکردگی دکھا کر (ن) لیگ کی لاج رکھی ہوئی ہے ۔

 بلاول بھٹو گلگت الیکشن میں بڑے بڑے جلسے کرکے وہاں کے عوام کو سنہری خواب دکھا چکے جب کہ نواز شریف گلگت جا کر عوام کے پاس نہیں گئے اور صرف لیگیوں سے مل کر واپس آ گئے کہ (ن) لیگ اقتدار میں آ کر بے روزگار نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضے، طلبا کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بسیں چلوائے گی۔ یہی انتخابی خواب دوسری جماعتیں بھی عوام کو دکھا چکی ہیں اور (ن) لیگ کے دکھائے گئے انتخابی خوابوں کی تعبیر وفاق میں عوام تلاش کر رہے ہیں کیونکہ غیر ملکی قرضوں سے چلنے والا وفاق (ن) لیگ کے وعدوں کو کیسے پورا کرے گا۔ فنڈز کہاں سے لائے گا اور سندھ بلوچستان حکمران جماعت یہاں کارکردگی نہ دکھا سکی تو جی بی میں آ کر کیا کر لے گی؟