بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ ٹرمپ پر الزام عائد کرنے والی خاتون منظرِ عام سے غائب

متاثرہ خاتون نے 2019 میں ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ ٹرمپ نے زیادتی کا نشانہ بنایا جب میری عمر صرف 13 سے 15 سال تھی


ویب ڈیسک June 30, 2026
متاثرہ خاتون کو ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین نے 13 سال کی عمر میں زیادتی کا نشانہ بنایا

امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ریکیٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین سے متعلق مقدمات میں جین ڈو 4 کے نام سے شناخت رکھنے والی خاتون منظر عام سے غائب ہوگئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ خاتون وہی ہیں جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔

خاتون نے ایف بی آئی کو 2019 میں 4 مرتبہ انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 1980 کی دہائی میں جب میری عمر 13 سے 15 برس کے درمیان تھی تو جیفری ایپسٹین نے جنسی استحصال اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جنسی زیادتی کی۔

تاہم ان الزامات کے حق میں اب تک کوئی عدالتی ثبوت یا باضابطہ فردِ جرم سامنے نہیں آئی البتہ خاتون کی حفاظت کے پیش نظر ایف بی آئی نے شناخت خفیہ رکھی اور اصل نام کے بجائے کوڈ ورڈ جین ڈو 4 بطور نام دیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اگر ان دعوؤں میں کوئی حقیقت ہوتی تو سابق صدر جو بائیڈن کی وزارتِ انصاف ان پر کارروائی ضرور کرتی۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ایپسٹین کیس سے متعلق جاری ہونے والی دستاویزات نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مکمل طور پر بے گناہ ثابت کر دیا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے ناقدین کا مطالبہ ہے کہ تمام متعلقہ ریکارڈ بغیر کسی ردوبدل کے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔

دوسری جانب امریکی وزارتِ انصاف کی جانب سے ایپسٹین کیس کی دستاویزات جاری کرنے کے طریقہ کار پر تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کو 2 جولائی تک حکم دیا ہے کہ یا تو ایپسٹین کیس سے متعلق غیر سنسر شدہ دستاویزات عدالت میں پیش کریں یا تحریری طور پر وضاحت دیں کہ ایسا کیوں ممکن نہیں۔

عدالت نے "جین ڈو 4" سے متعلق ایف بی آئی کے انٹرویو نوٹس بھی جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ مقدمہ صحافی کیٹی فینگ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جبکہ شفافیت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزارتِ انصاف نے تقریباً 25 لاکھ دستاویزات کو دہرانے والی یا قانونی تحفظ کی حامل قرار دے کر عوام سے پوشیدہ رکھا جس سے شکوک و شبہات نے جنم لیا۔

جیفری ایپسٹین کی ایک اور متاثرہ خاتون ورجینیا جیوفری کے بھائی اسکائی رابرٹس نے کہا کہ جین ڈو 4 اپنا بیان پہلے ہی ایف بی آئی کو دے چکی ہے اب مزید کارروائی کرنا وزارتِ انصاف کی ذمہ داری ہے نہ کہ متاثرہ خاتون کی ہے۔

خیال رہے کہ ایف بی آئی نے جین ڈو 4 کے الزامات کے سلسلے میں کسی بھی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس بات کے شواہد سامنے آئے ہیں کہ 2019 میں انٹرویوز مکمل ہونے کے بعد مزید تحقیقات کی گئیں۔

متاثرہ خاتون نے بعد ازاں ایف بی آئی سے رابطہ بھی منقطع کر دیا تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ اور وہ انتقامی کارروائی کے خوف سے خفیہ مقام پر زندگی گزار رہی ہیں۔

خاتون کے ایک قریبی رشتہ دار کا کہنا ہے کہ جین ڈو 4 شدید ذہنی صدمے کا شکار ہے اور اپنی حفاظت کے پیش نظر عوامی نظروں سے دور رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا، جبکہ اس کی ساتھی گھسلین میکسویل بچوں کی جنسی اسمگلنگ میں معاونت کے جرم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے۔