اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ایرانی پراکسیز کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بات انھوں نے اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگیں ختم ہوچکیں یا ان میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے؟
انھوں نے مزید کہا کہ یہ جنگیں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ اگر آپ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر وقت مضبوط اور چوکنا رہنا ہوگا۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا ہے تاہم ان کے بقول ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔ ہمیں ایرانی محور کے باقی ماندہ عناصر سے نمٹنا ہوگا اور ساتھ ہی امن معاہدوں کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
جب نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ وہ کن ممالک کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدوں کی توقع رکھتے ہیں اور کیا ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے تو انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔
انھوں نے کہا کہ میں ابھی کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں نتائج دینا چاہتا ہوں لیکن وقت آنے پر سب دیکھیں گے۔ لبنان کے ساتھ ایسی پیش رفت ہوئی جس کا کسی کو تصور بھی نہیں تھا۔ دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ جب کوئی ملک طاقتور ہوتا ہے تو دوسرے ممالک اس کے ساتھ اتحاد بھی کرتے ہیں اور امن معاہدے بھی کرتے ہیں۔