تارکین وطن کے بچوں کو شہریت دینے کا حکم؛ ٹرمپ امریکی سپریم کورٹ پر برہم

سپریم کورٹ کے فیصلے کو کانگریس سے تبدیل کروائیں گے، امریکی صدر


ویب ڈیسک June 30, 2026
ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی؛ ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کے بچوں کو شہریت نہ دینے سے متعلق اپنے صدارتی حکم کے سپریم کورٹ سے مسترد ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ عدالت نے اپنے فیصلے سے تقریباً ایک صدی بعد صدارتی اختیارات بحال کر دیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اپنی مقبولیت اور عوامی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اب پیدائشی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کانگریس کے ذریعے تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم فیصلہ 'سلاٹر کیس' تھا جس نے تقریباً سو سال سے رائج 'ہمفریز ایگزیکیوٹر رول' کو ختم کر دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ صدارتی اختیارات کا معاملہ سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور سے تنازع کا شکار رہا، جب ان کے بقول صدر کے بہت سے اختیارات محدود کر دیے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روزویلٹ نے ان اختیارات کی بحالی کی کوشش کی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی دی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے صدارتی منصب کو وہ وسیع اختیارات واپس دیے ہیں جن کا وہ حق دار تھا اور ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اس تاریخی مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے والے موجودہ صدر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ان کی انتظامیہ کو دیگر معاملات میں بھی کامیابیاں ملیں، تاہم انہوں نے پیدائشی شہریت سے متعلق مقدمے میں ہونے والے فیصلے کو اپنی حکومت کے لیے ایک ناکامی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پیدائشی شہریت کے معاملے میں عدالت سے ہار گئے، لیکن اس مسئلے کو کانگریس میں درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے ساتھ سپریم کورٹ نے منصفانہ رویہ اختیار کیا اور عدالتی فیصلوں نے آئینی اختیارات سے متعلق کئی دیرینہ قانونی تنازعات کو نئی سمت دی ہے۔

پس منظر

سپریم کورٹ نے آج ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی یا عارضی حیثیت رکھنے والے تارکین وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش مسترد کر دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ ایگزیکیٹو آرڈر امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے خلاف ہے جو امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تمام بچوں کو شہریت کا حق دیتا ہے۔

واضح رہے کہ عدالت نے ایک علیحدہ مقدمے میں وفاقی ایجنسیوں کے بعض عہدیداروں کو برطرف کرنے کے صدارتی اختیارات سے متعلق فیصلہ دیا جسے ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کی بحالی قرار دیتے ہوئے اپنی بڑی قانونی فتح کہا ہے۔