پاکستان میں بجٹ کی کہانی عام آدمی کے مفادات کے برعکس ہے اور عام آدمی اس عمل بجٹ کی سیاست میں مجموعی طور پر خود کو تنہا محسوس کرتا ہے کیونکہ عام آدمی اعداد وشمار کے مقابلے میں سیاسی اور معاشی زمینی حقایق کو بنیاد بنا کر بجٹ پر اپنی سوچ یا رائے تشکیل دیتا ہے۔
اس کے مجموعی طور پر دیکھنے کا زاویہ اس کی اور معاشرے کی غربت میں کمی اور اپنی آمدنی میں اضافے سے ہوتا ہے یا وہ یہ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ اور اس کا خاندان معاشی ترقی اور خوشحالی کے دائرہ کار میں آتا ہے یا عام اور کمزور طبقات کو حکومتی بجٹ اور وسائل کی بنیاد پر معاشی ریلیف مل رہے تو وہ عملا حکومت پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہے ۔اسے حکومتی معاشی ماہرین کی دانش اور منطق سے کوئی غرض نہیں ہوتی، وہ جہاں اپنا معاشی مفاد دیکھتا ہے وہیں اپنے ارد گرد کی معاشی ترقی یا معاشی بدحالی کی کہانی بھی اسی کے گرد گھومتی ہے۔
عمومی طور پر بجٹ کی سیاست پر منطق دی جاتی ہے کہ اس میں حکومت طاقت ور اور خوشحال افراد پر زیادہ بوجھ ڈال کر کمزور طبقات کو زیادہ معاشی طور پر مستحکم کرتی ہے تاکہ معاشرے کی سطح پر جو معاشی محرومیاں اور ناانصافیاں یا تفریق کے پہلو ہیں اس کو ختم یا محدود کیا جاسکے ۔لیکن ہمارے بجٹ کی کہانی طاقت ور اشرافیہ کے گرد ہی گھومتی ہے اور ان ہی کے مفادات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ایک بنیاد ی وجہ حکمران طبقات جو حکومت میں ہوتی ہے وہ ہی خود بھی کاروبار یا صنعت کا حصہ ہوتی ہے۔اس لیے وہ عام آدمی کے مقابلے میں اپنے جیسے طاقت ور لوگوں کے بارے میںہی سوچتی ہے یا ان ہی کے مفادات تک خود کو محدود کرتی ہے ۔
سیاست اور جمہوریت کی کہانی عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط بنانے سے جڑی ہوتی ہے اور حکمران اس نقطہ پر توجہ دیتے ہیں کہ لوگوں کو ملک میں معاشی طور پر نہ صرف مستحکم کیا جاسکے بلکہ ان کو ان ہی کے پاوں پر کھڑا کیا جاسکے ۔لیکن ہماری حکومتی پالیسیوں اور بجٹ کی کہانی میں عام آدمی کو معاشی طور پر مستحکم کرنا کم اور ان کو حکومتوںکے محتاج بنانا زیادہ اہم ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ نہ تو ہمارا عام آدمی کے تناظر میں معاشی سطح کے اشاریوں میں کوئی بڑا استحکام دیکھنے کو ملتا ہے اور جو حکومتی اعداد وشمار ہیں، اس میں بھی عام آدمی اور بالخصوص عورتوں کا مقدمہ کمزور ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
حالیہ بجٹ کو دیکھیں تو اس میں تعلیم، صحت، اسپیشل ایجوکیشن،ہائر ایجوکیشن،صحت، روزگار، عورتوں اور بچوں کی ترقی یا معذور افراد اور خواجہ سراوں کا مقدمہ یا اقلیتوں کے مسائل کو وہ بڑی ترجیح نہیں مل سکی جو اصولی طور پر ان شعبوں کو ملنی چاہیے تھی۔ اسی طرح اگر ہم عملی طور پر پنجاب کے بجٹ کو دیکھیں تو اس میں جنوبی پنجاب کے مسائل کو کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیںمل سکی اور ان علاقوں کے لیے جو وسائل عملا رکھے گئے ہیں وہ بہت کم ہیں۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے۔
ہماری ترجیحات میں انسانی ترقی کم اور بڑی بڑی عمارتوں کی ترقی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ اہل اقتدار سمجھتے ہیں کہ انسانی ترقی کی بنیاد پر ووٹ کی سیاست کسی بھی طور پر بالادست نہیںہوسکتی تو ہمیں بڑے بڑے تعمیری ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔حکمرانوں کو اس ملک میں اس بات کا کوئی احساس موجود نہیں کہ یہ جو ملک کی بڑی آبادی کے سیاسی ،سماجی ،قانونی اور معاشی اعداد وشمار میں تفریق،تضادات اور عدم ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے اس کی براہ راست ذمے داری وہ کیونکر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
18ویں ترمیم کے بعد جس بڑے پیمانے پر وسائل کی تقسیم وفاق سے صوبائی سطح پر ہوئی ہے، اس کی بنیاد پر صوبائی حکومتیں عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی زیادہ براہ راست ذمے دار ہیں۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا اور یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ اس ملک میںصوبائی حکومتوں کی معاشی کارکردگی اور منصفانہ ترقی یا ترقی میںشفافیت کا نظام وہ نہیںجو ہونا چاہیے تھا۔ صوبائی حکومتیں کو جوابدہ بنا کر ہی ہم نظام کی اصلاح کو بنیاد بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں ۔اب حکومتی پالیسیوں میں بنیادی مسائل جن میں تعلیم اور صحت جیسے اہم حساس معاملات ہیں ان کی نج کاری کا جو بھوت سوار ہے وہ خود ایک بڑی تباہی کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
ریاست اور شہریوں کا بنیادی تعلق ہی لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے جڑی فراہمی کا ہے ۔اگر یہ رشتہ ریاست اور عام آدمی کے درمیان کمزور ہوجائے یا ان میں بداعتمادی پیدا ہوجائے تو پھر اس تعلق میں جو ہم کو خلیج دیکھنے کو ملے گی اس کا ذمے دار کون ہوگا۔پچھلے دنوں لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر افضل چوہدری کی جانب سے یونیورسٹی میں ایک راونڈ ٹیبل پوسٹ بجٹ فکری نشست منعقد کی گئی جس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی اور مہمان خاص لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم سہگل اور ذکی اعجاز،ڈاکٹر محمد اویس طاہر چیف آف ریسرچ پنجاب تھے ۔اس نشست میں ایک نقطہ پر سب سے زیادہ زور دیا گیا کہ کیسے بجٹ کی سیاست میں ہم نئی نسل کے معاشی مفادات اور بالخصوص بچیوں کے معاشی مفادات کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ماہرین کے بقول ہماری بجٹ کی سیاست ٹیکس نیٹ کو بڑھانے تک محدود ہے اور یہ معاشی ترقی اور خوشحالی کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا اور اس بجٹ میں ہم نے نئی نسل کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔
مسئلہ محض پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کا ہی نہیں بلکہ وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو پڑھ نہیں سکے یا ناخواندہ ہیں ہمارے پاس ان کی معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے ۔یہ ہی وجہ ہے حالیہ اکنامک سروے کے نتائج کافی سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور سیاسی یا سماجی یا معاشی تفریق کو نمایاں طور پر پیش کررہے ہیں ۔
اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ایسے کئی اضلاع ہیں جو ترقی کے عمل میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور وہاں کافی پسماندگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔لیکن ان پس ماندہ اضلاع کی ترقی کا کوئی بھی ماڈل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس موجود نہیں ۔ جمہوریت محض خوشنما نعروں سے لوگوںکا پیٹ نہیں بھرتی بلکہ اس کے لیے عملی طور پر جمہوریت اور جمہوریت سے وابستہ حکمران اور دیگر طبقات کو عام آدمی کے مقدمے کے تناظر میںاپناداخلی مقدمہ بھی مضبوط بنانا ہوگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ جمہوریت سے جڑے اہل افراد یا سیاست دان خود تو دولت مند ہوجائیں یا ا ن کا تعلق مراعات یافتہ طبقہ سے بن جائے جب کہ اس کے برعکس ان کی حمایت یا جمہوریت کے حق میں موجود لوگ مسلسل خط غربت کا شکار ہوں یا ان کی زندگیوں میں معاشی ترقی کی بجائے بدحالی کا منظر عام ہو۔
اسی طرح سیاسی جماعتیں جو اقتدار کی سیاست کا حصہ ہیں ان کا عام آدمی سے تعلق بہت کمزور ہوگیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کافی فاصلے پر کھڑے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں بجٹ کی کہانی کا کھیل مراعات یافتہ طبقہ کی کہانی کے گرد گھومتا ہے اور اس میں عام آدمی کا حصہ مسلسل کم ہورہا ہے اور حصہ کی یہ کمی اس کی غربت میں اضافہ کر رہی ہے ۔بالخصوص عام آدمی سمیت لوئر اور اپر مڈل کلاس کے درمیان بھی اس وقت جو اخراجات اور آمدنی میں عدم توازن دیکھنے کو مل رہا ہے اس نے بھی حالات کی سنگینی کو ایک نئی کہانی میں تبدیل کردیا ہے۔