ضیاء اعوان نوجوانی میں ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوئے، وہ لیاری نوجوان تحریک کا حصہ بنے۔ اردو کالج میں ترقی پسند سیاست میں حصہ لیتے رہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں پروگریسو فرنٹ میں شامل ہوئے۔ دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ انھیں ضیاء دور میں بغیر کسی وجہ کے کئی ماہ تک کراچی سینٹرل جیل میں نظربند رکھا گیا۔ انھوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی آزادئ صحافت کی تحریک میں حصہ لیا اور کئی ماہ کراچی سینٹرل جیل میں گزارے اور صحافیوں کے ساتھ طویل بھوک ہڑتال کی، بعد ازاں وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔
ضیاء اعوان نے انصاف کی آسانی سے فراہمی اور غریبوں کی داد رسی کے لیے بہت سے مقدمات لڑے۔ وہ سندھ بار اور سپریم کورٹ بار میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ویلفیئر پر مبنی خدمات پیش کرتے رہے۔ انھوں نے سٹی کورٹ کو ایک جدید کمپلیکس میں تبدیل کرانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی۔ وکلاء برادری نے پٹیشن کی غیر مشروط حمایت کی ہے ۔
لاہور میں ایک مرکزی عدالتی کمپلیکس کے قیام کی طرف پیش رفت ہوئی ہے جو معزز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس نیلم منیر کی تخلیق ہے۔ یہ منصوبہ انصاف تک رسائی کے جدید تصور سے ہم آہنگ ہے۔ سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران اعلان کیا تھا کہ کراچی میں سپریم کورٹ کی رجسٹری کے لیے تعمیر کی جانے والی نئی عمارت میں صرف رجسٹری کو منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ نو تعمیر شدہ عمارت میں کراچی کے مختلف علاقوں اور عمارتوں میں واقع عدالتوں کو ایک ہی جگہ یکجا کیا جائے گا۔ یہ جوڈیشل کمپلیکس قائم کرنے کی پیش رفت کی جانب اشارہ تھا۔ صوبائی حکومت کو بھی کراچی کی تمام عدالتوں کو ایک کمپلیکس میں منتقل کرنا چاہیے تھا۔ بھارت میں ممبئی اور دہلی جیسے شہروں میں تمام عدالتوں کو جوڈیشل کمپلیکس میں اکٹھا کیا گیا ہے جہاں سائلین، وکلاء اور جج صاحبان کو تمام ممکنہ سہولیات بہم پہنچائی گئی ہیں۔
سٹی کورٹ کراچی کے احاطے میں عدالتی احاطہ میں تجاوزات اور بغیر منصوبہ بندی کے تعمیر کیے گئے ڈھانچوں نے بیشتر راہ داریوں کو تنگ کردیا ہے جس کے باعث سائلین، وکلاء و دیگر افراد کے لیے چلنے پھرنے میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ کسی ہنگامی صورتحال میں تجاوزات انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ ضیاء اعوان نے اپنی اس پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ سٹی کورٹ کا اصل ماسٹر پلان طلب کیا جائے اور اس ماسٹر پلان کے مطابق تجاوزات ختم کرنے اور سٹی کورٹ کی اصل حالت میں بحالی کا حکم دیا جائے۔ سٹی کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پرآنے والے ملزمان، سائلین، وکلاء اور دیگر افراد کی تعداد اس احاطے کی مجموعی گنجائش سے چوگنی اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
موجود سیڑھیاں بہت پرانے زمانے کی ضروریات کے مطابق تعمیر کی گئی تھیں جو موجودہ ضروریات کے تناسب سے بہت تنگ ہیں۔ لفٹ کی سہولت بھی ہر عمار ت میں نہیں ہے۔ درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ سٹی کورٹ کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو سیکیورٹی میں اضافہ کرنے، خطرات سے نمٹنے اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے موثر واک تھرو گیٹس نصب کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں اور آگ بجھانے کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست کے متن کے مطابق سٹی کورٹس میں پینے کے پانی کا خاطرخواہ انتظام نہیں ہے۔
بار رومز میں صرف وکلاء کے لیے یہ سہولت ہے۔ سائلین خوانچہ فروشوں سے پانی کی جو بولتیں خریدتے ہیں۔ لہٰذا سٹی کورٹ کی ہر عمارت میں پینے کے پانی اور پانی ٹھنڈا کرنے کی مشینیں نصب کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔ بیت الخلاء کی موجودہ سہولیات حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں ، واش رومز کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ قیدیوں کی حفاظت کے انتظامات غیر محفوظ ہیں ۔ زیر حراست قیدیوں کے لیے کوئی علیحدہ محفوظ جگہ نہیں ہے۔ ان قیدیوں کے رشتے دار ان سے ملنے کے لیے اکثر سٹی کورٹ آتے ہیں لیکن ایسی ملاقات کے لیے کوئی انتظام یا مناسب جگہ نہیں ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران کمروں میں بہت زیادہ بھیڑ اور حبس ہوجاتی ہے۔ زیادہ تر عدالتوں میں معز ز وکلاء کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی، یہاں تک کہ سینئر وکلاء بھی عدالت سے باہر کھڑے ہو کر کیس میں آواز پڑنے کا انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ نیز بہت سی عمارتوں کے انتظامی دفاتر دور ہونے کی وجہ سے بھی عدالتی کام متاثر ہوتا ہے۔ سٹی کورٹ میں غیر متعلقہ لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہتی رہتی ہے ، کوئی روک ٹوک نہ ہونے کے سبب یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کئی لوگ وکیل نہیں ہوتے لیکن خودکو لائسنس یافتہ وکیل ظاہر کرتے ہیں اور سائلین سے فیس بٹورتے ہیں اور پھر غائب ہوکر اپنا فون بند کرلیتے ہیں۔
ضیاء اعوان کی دائر کردہ پٹیشن کے مطابق عدالتوں میں طبی سہولیات، یہاں تک کہ ابتدائی طبی امداد کی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ ہیرٹیج عمارتوں کو ہیرٹیج قوانین کے برخلاف تبدیل کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ وکلاء اور گواہان بھی خطرے میں رہتے ہیں۔ گواہوں کی حفاظت کا بھی کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ دیگر ممالک میں استغاثہ کے وکلاء اور گواہوں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں گواہوں کے تحفظ کے قانون پر موثر عملدرآمد ضروری ہوگیا ہے۔ ضیاء اعوان نے اپنی دائر کردہ پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ فیملی کورٹس کوایئر کنڈیشنڈ کیا جائے اور فیملی اور بچوں کے تناؤ سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ان کے قریب سبزہ لگایا جائے اور ان میں پھولوں والے پودے لگائے جائیں۔
نیز فیملی کورٹس سے ملحقہ میٹنگ رومز قائم کیے جائیں جن میں عدالت آنے والے بچے اپنے والدین سے مل سکیں۔ اس کے علاوہ وکلاء، سپاہی اور دیگر خواتین کو عدالت کے احاطے میں ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ضیاء اعوان کی اس عرضداشت پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے عملدرآمد کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کراچی آئے تو انھوں نے سندھ کی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ جوڈیشل کمپلیکس کی فوری تعمیر کے لیے اقدامات کیے جائیں مگر سندھ کے آئندہ مالیاتی سال کے بجٹ میں کراچی میں جدید جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے خاطرخواہ رقم مختص نہیں کی گئی ہے، یہ صورتحال خاصی مایوس کن ہے۔