تاریخ کے کچھ لمحے وقت کے صحیفوں میں محض واقعات بن کر درج نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی ضمیر کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔ صدیاں گزر جائیں ،سلطتنیں مٹ جائیں، تخت الٹ جائیں مگر ایسے لمحے اپنی معنویت نہیں کھوتے۔ کربلا بھی تاریخ کا ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔
یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ حق اور باطل، ضمیر اور اقتدار ، انصاف اور جبر کے درمیان کھینچی گئی وہ لکیر تھی جس نے انسانیت کو ہمیشہ کے لیے ایک معیار عطا کر دیا،مگر کربلا کی داستان نیزوں کی چمک اور تلواروں کی جھنکار پر ختم نہیں ہوئی، اگر اس کے بعد ایک باوقار اور بے خوف آواز نہ اٹھتی تو ممکن تھا کہ ظلم اپنی فتح کا جشن تاریخ کے صفحات پر دائمی سچائی بنا کر لکھ دیتا، اگر ایک بہن ،ایک بیٹی اور ایک قیدی اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ کھڑی نہ ہوتیں تو شاید کربلا صرف ایک المناک واقعہ سمجھا جاتا نہ کہ ایک ابدی پیغام۔
وہ آواز زینب بنت علی کی تھی۔
امام حسین نے کربلا میں اپنے خون سے حق کا وہ باب رقم کیا جسے مٹانا ممکن نہ تھا اور بی بی زینب نے اپنے صبر، استقامت اور خطابت سے اس باب کو نسلوں کی امانت بنا دیا۔ انھوں نے دکھ کو خاموشی کا لباس نہیں پہنایا بلکہ اسے سچ کی زبان عطا کی، وہ صرف شہداء کی سوگوار نہ تھیں بلکہ حق کی مورخ، ظلم کی گواہ اور انسانی وقار کی ترجمان تھیں۔
طاقت کا غرور ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ مخالف آوازوں کو خاموش کر کے حقیقت کو بھی دفن کیا جا سکتا ہے، مگر تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، نظریات کو نہیں۔ بی بی زینب نے دربار میں کھڑے ہو کر اسی حقیقت کو امر کر دیا کہ قید جسم کی ہوتی ہے ضمیر کی نہیں، زنجیریں ہاتھوں کو جکڑ سکتی ہیں مگر سچائی کی پرواز کو نہیں روک سکتیں۔
ان کی عظمت کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ انھوں نے ذاتی غم کو اجتماعی شعور میں ڈھال دیا۔ انھوں نے اپنے دکھ کو صرف آنسوؤں کی نذر نہیں کیا بلکہ اسے ایک ایسی فکری قوت میں تبدیل کیا جس نے کربلا کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیا۔ ان کی استقامت نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا بھی ظلم کو تقویت دینا ہے جب کہ ایک سچا لفظ کبھی کبھی ہزاروں تلواروں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
بی بی زینب کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کی روح صرف عبادت میں نہیں بلکہ عدل ،انسانی حرمت، حق گوئی اور مظلوم کی حمایت میں بھی جلوہ گر ہوتی ہے۔ انھوں نے ثابت کیا کہ اخلاقی قوت عسکری قوت سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہے، اسی لیے کربلا کی ظاہری شکست تاریخ کی سب سے بڑی اخلاقی فتح بن گئی۔
وہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ مزاحمت ہمیشہ میدان جنگ میں جنم نہیں لیتی ہے۔ کبھی ایک ماں کا صبر مزاحمت بن جاتا ہے ،کبھی ایک بہن کی ثابت قدمی اور کبھی ایک مظلوم کی دعا اور کبھی ایک بے خوف آواز ظلم کے ایوانوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔ تاریخ میں بہت سے حکمران اپنے اقتدار کے زعم میں گم ہو گئے مگر وہ آوازیں آج بھی زندہ ہیں جو سچائی کے لیے بلند ہوئیں۔
کربلا کسی ایک فرقے، قوم یا زمانے کی میراث نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ایک اخلاقی استعارہ ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا علم بلند کرنا چاہتا ہے۔ بی بی زینب اس امانت کی سب سے معتبر محافظ بن کر سامنے آئیں۔ انھوں نے دنیا کو بتایا کہ شکست وسائل کی کمی کا نام نہیں بلکہ اصولوں سے دستبردار ہو جانے کا نام ہے۔آج بھی جب دنیا کے کسی کونے میں کوئی مظلوم انصاف کی صدا بلند کرتا ہے، جب کوئی کمزور طاقت کے ایوانوں میں سچ بولنے کی جسارت کرتا ہے ،جب کوئی عورت ظلم کے سامنے استقامت کی علامت بن کر کھڑی ہوتی ہے تو تاریخ کے اوراق میںبی بی زینب کی آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
کربلا ختم نہیں ہوئی کیونکہ حق اور باطل کی کشمکش ابھی باقی ہے۔ ظلم آج بھی نئے چہرے بدلتا ہے اور انصاف آج بھی نئے امتحانوں سے گزرتا ہے، ایسے میں بی بی زینب ہمیں یہ یقین عطا کرتی ہیں کہ تاریخ کا دھارا ہمیشہ طاقت سے نہیں بدلتا، کبھی ایک تنہا مگر مضبوط آواز بھی زمانوں کی سمت متعین کر دیتی ہے۔ شاید یہی کربلا کا سب سے روشن سبق ہے کہ تلواریں ایک دن نیام میں لوٹ جاتی ہیں ،سلطنتیں مٹی میں مل جاتی ہیں مگر حق کے لیے بلند ہونے والی آوازیں صدیوں تک انسانیت کا ضمیر بن کر گونجتی رہتی ہیں۔
بی بی زینب کی شخصیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ تاریخ میں عورت کا کردار کبھی صرف پردے کے پیچھے خاموش گواہ کا نہیں رہا۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں جنھوں نے اپنے وقت کے سب سے بڑے سیاسی اور عسکری جبر کے سامنے اپنی آواز بلند کی۔ انھوں نے ثابت کیا کہ عورت کی طاقت صرف صبر کرنے میں نہیں بلکہ سچ کہنے، سوال اٹھانے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے میں بھی ہے۔
کربلا کے بعد جب حالات ایک ایسی عورت سے خاموشی کی توقع کر رہے تھے جس نے اپنے خاندان کی عظیم قربانیاں دیکھی تھیں، بی بی زینب نے خاموشی کو قبول نہیں کیا۔ ان کی جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ عورت تاریخ میں محض تماشائی نہیں بلکہ تاریخ بنانے والی قوت بھی ہے۔ ان کی آواز میں دکھ بھی تھا، وقار بھی اور مزاحمت بھی اور یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی وہ دنیا بھر کی ان عورتوں کے لیے ایک علامت ہیں جو ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔