مغربی پنجاب، یعنی پنجاب کا وہ علاقہ، جوتقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان کا حصہ قرار پایا، اس میں ’زندہ دلان لاہور‘ کے بعد ’ساکنان گجرات‘ ہی کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ انھوں نے برصغیر کے عظیم مصلح سر سید احمد خاں کی پکار پرسب سے پہلے لبیک کہا، اوران کے تعلیمی مشن کی بھرپور تائید کی۔ علی گڑھ کالج سے فارغ التحصیل گجرات کے ایک زمیندار نوجوان فضل علی نے انھی کی تقلید میں گجرات میں زمیندار ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کی، پھر علی گڑھ اسکول، کالج کی طرز پر اس کے تحت زمیندار ہائی اسکول اور زمیندار ڈگری کالج کی بنیاد رکھی۔
عجیب اتفاق ہے کہ اپنے پیر و مرشد سرسید احمد خاں کی طرح وہ بھی ’سر‘ کے خطاب سے سرفراز کیے گئے، اور بعد از رحلت اپنے قائم کردہ کالج کے احاطہ ہی میں مدفون ہیںَ۔ اس طرح، وہ بجا طور پر’پنجاب کا سرسید‘ اور ’سرسید ثانی ‘کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔اسی سے تبسمؔ کاشمیری نے ان کی قبرکے کتبہ کے لیے تاریخ وفات نکالی،’’ امیرے، تاجدارے قوم ما، سرسید ثانی‘‘۔
مگر، سرسید احمد خاں اور علی گڑھ سے اہل گجرات کے عشق کی کہانی صرف سر فضل علی تک محدود نہیں، بلکہ ’چمین میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری‘کے مصداق اس دورمیں گجرات اور اس کے نواح میں پڑھے لکھے طبقہ کے اندرکوئی نہ کوئی ’’علیگ‘‘ بھی ضرور ہوتا تھا، مثلاً: موضع اجنالہ کے مہیدی علی خاں (سر فضل علی کے فرزند )، موضع ہریہ والا کے خو شی محمد ناظرؔ ( آزاد کشمیر کے سابق وزیر، گورنر اور شاعر )، موضع منگووال کے محمد احسن علیگ (سابق رکن پنجاب اسمبلی اور اعتزاز احسن کے والد)، موضع مرالہ کے فضل الہی چوہدری (سابق صدر پاکستان )، جلالپور جٹاں کے مختار مسعود (مشہور مصنف اور بیوروکریٹ، جن کے والد شیخ عطا اللہ تقریباً بیس سال علی گڑھ کالج میں اقتصادیات پڑھاتے رہے)، اندرن شہر شاہدولہ گیٹ کے ڈاکٹر فضل الرحمن (کراچی میں فلسفہ کے پروفیسر رہے، مختار مسعود نے، جو علی گڑھ کالج کی رہایشی کالونی میں اپنے والد کے ساتھ ہی رہتے تھے، اپنی کتاب ’سفر نصیب‘ میں ڈاکٹر فضل الرحمن کا زندہ جاوید خاکہ لکھ کر ان کی شخصیت کو تاریخ کے صفحات میں مدت تک کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سرسید احمد خاں نے اپنے تعلیمی پروگرام کی ترویج و اشاعت کے لیے چار مرتبہ پنجاب کا سفر اختیار کیا، مگر پنجاب کا وہ علاقہ جو، اب پاکستان کا حصہ ہے، اس میں ان کی دو بار ( لاہور ) آمد کا احوال ہی ملتا ہے، دسمبر1873 ، فروری 1884 ، اور ان میں سے بھی صرف ان کے دوسری بار ورود لاہورکا تذکرہ مستند طور پر محفوظ ہے، جو اس سفر میں ان کے رفیق خاص مولوی سید اقبال علی کی چشم دید رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سرسید احمد خاں کی لاہور آمد کے تیسرے روز، 3 فروری 1984 کو گورنمنٹ اسکول لاہور میں حسب پروگرام پہلے انڈین ایسوسی ایشن لاہور اور پھر انجمن اسلامیہ لاہور نے سر سید احمد خاں کے اعزاز میں خیر مقدمی خطبات پیش کیے۔
اس کے بعد انجمن اسلامیہ گجرات کی طرف سے شیخ محبوب علی نے سرسید احمد خاں کو خراج عقیدت پیش کیا، جس میں ان کی تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی دینی خدمات کو بھی بہت سراہا، اور اہل گجرات کی جانب سے ان کے مشن کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ پراثر خطاب جس کا ہر ہر لفظ، بقول مولوی اقبال علی، سرسید احمد خاں کے لیے اہل گجرات کے گہرے قلبی جذبات کا آئینہ دار تھا، بعدازاں شیخ غلام محمد سیکریٹری، شیخ فضل کریم اسسٹنٹ سیکریٹری، شیخ غلام حیدر ممبر، ماسٹر عبدالعزیز ممبر ، شیخ میراں بخش، چراغ دین، نور احمد اور شیخ محبوب علی کے دستخطوں کے ساتھ نہایت خوب صورت بکس میں رکھ کرسر سید احمد خاں کو نذر بھی کیا گیا۔
سرسید احمد خاں قبل ازیں انڈین ایسوسی ایشن لاہور اور انجمن اسلامیہ لاہور کے خیر مقدمی خطبات کے جواب میں دو مرتبہ اظہار خیال کر چکے تھے، اور اب کچھ اضمحلال محسوس کر رہے تھے، مگر اس کے باوجود اہل گجرات کے خیرمقدمی خطبہ پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور کہا کہ اہل گجرات کے خطبہ میں جو اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، اگر یہ خطبہ اس تقریب کے شروع میں رکھا گیا ہوتا، تو اس کی اہمیت کے پیش نظر آج کی تقریب کا سارا وقت اسی کے جواب میں صرف ہو جاتا۔ ان ابتدائی کلمات کے بعد اس موقع پر سرسید احمد خاں نے اہل گجرات کو مخاطب کرکے جو کچھ کہا، خوش قسمتی سے مولوی اقبال علی نے ’’سرسید احمد خاںکے سفرنامہ پنجاب 1884 ‘‘میں اسے لفظ بہ لفط نقل کرکے پنجاب کے تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے، ملاحظہ کیجیے۔
’’اے بزرگان و برادران ساکنان گجرات !‘‘
’’آپ نے جو اس دور دراز مقام سے سفر کرکے یہاں تشریف لانے کی زحمت کی ہے، اور ایک ایڈریس مجلس اسلامیہ گجرات کی طرف سے میرے سامنے پیش کی، اس کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس وقت کہ میں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں سفر کیا، تو لوگوں نے میری جو عزت کی، جس کے لایق میں نہ تھا، مجھ کو ان ایڈریسوں سے جو مختلف مقاموں میں مجھ کو دی گئیں، اور ان مہربانیوں سے جو ہر ایک مقام کے بزرگوں نے میرے ساتھ کیں، بہت فخر حاصل ہوا ہے۔ مگر، میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی اس ایڈریس سے مجھے جو خوشی حاصل ہوئی ہے، اور جو عزت اس کے پیش ہونے سے میں اپنی سمجھتا ہوں ، وہ ان سب سے زیادہ ہے۔
اور مقاموں میں میرے معزز عالی درجہ دوست موجود تھے، اور میں خیال کرتا تھا کہ جو کچھ ان مقاموں پر میری عزت کی گئی، وہ صرف ان بزرگوں کی محبت اور عالی حوصلگی کے سبب سے ہوئی، جنھوں نے ایک شیشے کے ریزے کو ہیرے کے مول پر خریدا، لیکن گجرات ایک ایسا مقام ہے، جس کے کسی شخص سے بھی میں واقف نہیں ہوں۔ وہاں کے بزرگوں سے بجز اخوت اسلامی، جو بلاشبہ نہایت مستحکم رشتہ ہے، اور کسی طرح کا تعلق نہیں رہا ہے۔ ہاں ، وہ میرے اس وجہ سے مخدوم ہیں کہ میں اپنے تئیں تمام قوم کے خادم ہونے کے لایق ہونا خدا سے مانگتا ہوں۔گو، گجرات کے بزرگ میرے آنکھ سے دور ہوں ، مگر میرے دل سے دور نہیں۔ پس ، اس شہر سے، جس کے ساتھ ظاہری تعلقات نہیں ہیں ، مجھ جیسے ناچیز کے لیے ایک ایڈریس کا آنا بلاشبہ نہایت عزت اور نہایت قدر، اور سب ایڈریس پر ترجیح دینے کے لایق ہے۔‘‘
’’بھائیو، اس ایڈریس کے سننے سے، ایک اور بھی خوشی مجھے ہوئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ نے میری ناچیز تحریروں کو ایسا سمجھا ہے کہ جس سے اسلام کی حقیقی پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے۔ بلاشبہ اسلام ایسا ہی پاک ہے اور خدا سے امید ہے کہ ہمارے دل میں جس قدر کہ ہم اس کی اصلیت پر غور کریں گے، تو اس کی پاکیزگی زیادہ منقش ہوتی جاوے گی ۔
مدت سے میں اس خیال میں تھا کہ ہماری قوم کی یہ حالت ہو گئی ہے ، جیسے ایک بند پانی، نہ اس میں کسی اور طرف سے پانی آتا ہے، نہ اس میں خود حرکت ہے، وہ روز بروز میلا اور گدلا ہوتا جاتا ہے، مگر آپ کے تشریف لانے اور اس ایڈریس کے پیش کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اب ایک جوش پیدا ہو گیا ہے، اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان میں کچھ نقص ہے۔ اب ہر جگہ سے اس کی صدا آتی ہے کہ ہم کو کچھ کرنا چاہیے۔ یہ یقین مجھ کو آپ ہی کے ایڈریس نے دلایا ہے ، اس لیے میں خدا کا اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
ہمارے گجرات کے بعض بزرگ، جن میں پنجابی ادبی بورڈ کی شایع کردہ کتاب ’ تاریخ ضلع گجرات‘ کے مصنف احمد حسین قلعداری بھی شامل ہیں، دعوی کرتے ہیں کہ اس خطاب کے چند سال بعد سرسید احمد خاں انجمن اسلامیہ گجرات کی دعوت پر خاص گجرات بھی تشریف لائے تھے، مگر یہ بزرگ آج تک اس کا کوئی تحریری یا مصدقہ زبانی ریکارڈ پیش نہیں کر سکے۔
اسی طرح، سرسید احمد خاں سے منسوب اس قول کی بھی کوئی سند نہیں کہ انھوں نے گجرات کو’خطہ یونان‘ کہا ہو۔ ویسے بھی یونان کا گجرات سے موازنہ نہ صرف خلاف حقیقت، بلکہ کچھ عامیانہ سا معلوم ہوتا ہے، اور اسے سرسید احمد خاں سے منسوب کرنا، ان کے ساتھ بھی زیادتی ہے، جب کہ فروری 1884 تک، ان کے اپنے مصدقہ قول کے مطابق، وہ گجرات اور اہل گجرات سے براہ راست آشنا بھی نہ تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ساکنان گجرات کا سرسید احمد خاں اور ان کے تعلیمی پروگرام اور دینی مشن سے تعلق خاطر اور والہانہ وابستگی ان بے سند اور خلاف حقیقت دعووں کی محتاج نہیں ہے، خواجہ شیراز نے کہا تھا ؎
نظیر دوست ندیدم اگرچہ از مہ و مہر
نہادم آئینہ ہا در مقابل رخ دوست