عالمی سیاسی معیشت کے داؤ پیچ

تیل دنیا بھر کی حکومتوں کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان کی ضرورت روز بہ روز بڑھتی چلی جا رہی ہے



عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکا ایران کشیدگی، ملکی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے پاکستان کے درآمدی بل پر گہرا اثر ڈالا ہے اور پاکستان سب سے زیادہ تیل کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل سے گھائل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہو یا مشرق وسطیٰ میں تیل کی ہلچل ہو کبھی پیداوار میں کمی کر دی جاتی ہے اور کبھی عالمی سیاست میں کہیں بھی کشیدگی اتر آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی تیل کی عالمی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ تیل دنیا بھر کی حکومتوں کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان کی ضرورت روز بہ روز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

اوپیک کی پیداواری پالیسی یا مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی تنازعات، تیل کی عالمی تجارتی راستوں کی غیر یقینی صورت حال نے تیل کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ دنیا کی معیشتوں نے ان مواقع سے زبردست فائدہ بھی اٹھایا جب 2020 میں تیل کی عالمی قیمت کبھی 20 یا 30 ڈالر بھی تھی۔

انھوں نے اپنے سارے ذخائر بھر لیے تھے اور اب بھی بہت سے ملکوں کے پاس ذخیرہ کرنے کی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ کئی مہینوں تک اپنی معیشت و صنعت کو چلا سکتے ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ کچھ ایسا ہے کہ تیل کی قیمت بڑھتی ہے یا تیل کی ترسیلات میں رکاوٹیں پیدا ہوتے ہی درآمدی بل بڑھتا ہے۔ ادھر تجارتی خسارہ بڑھتا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر فوراً دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ ملک بھر میں تیل کی سپلائی کی رکاوٹ سے سنسنی خیزی پھیل جاتی ہے۔ روپے کی قدر متاثر ہوتی ہے ، مہنگائی میں اضافہ ہو کر ہر شے مہنگی ہو کر رہ جاتی ہے، سب سے پہلے بجلی کمپنیاں عوام پر بجلی بم گراتی رہتی ہیں۔

حکومت بھی مجبور ہے ایک طرف آئی ایم ایف کا حکم نامہ ہوتا ہے کہ مالیاتی خسارہ کم کیا جائے، اس کے ساتھ اگر پٹرول کے نرخ بڑھتے ہیں تو بھی حکومت اپنی یا ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھاری مقدار میں تیل درآمد کرتی ہے۔ ابھی اپریل 2026 کی بات ہے جب تاریخ میں پہلی بار پاکستان کا ماہانہ پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 2 ارب 27 کروڑ13 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا تھا۔ اس وقت ایران امریکا کے درمیان جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ۔اس صورت میں اگر خام تیل کی قیمت دوبارہ 90 یا زیادہ تک چلی جاتی ہے تو پاکستان کا درآمدی بل پھر سے 2 ارب ڈالر کے ارد گرد گردش کرتا رہے گا جس کے ممکنہ نتائج کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتے ہی آئی ایم ایف کا غصہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

روپے پر دباؤ میں اضافے کے باعث آئی ایم ایف کا ملکی معیشت پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں جانے کے باعث عوام پر مہنگائی بم گرتے چلے جائیں گے۔ ایسی صورت میں تنخواہ دار طبقہ پنشن یافتہ طبقہ جو پہلے ہی کم خوراک، بلند کرایہ مکان سے تنگ، ادویات کی کمی کا شکار اور غربت میں اضافے کے باعث غربت کی گہری کھائی میں گر جاتا ہے، جب گزشتہ برس غربت کی شرح 21 فی صد تھی اب 29 فی صد ہے تو مزید غربا کی تعداد میں اضافہ ہو کر ایک تہائی سے زائد اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو بہت جلد نصف سے زائد ہو جائیں گے۔ نصف سے زائد تو شاید کسی کے لیے اچھی بات ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح کم از کم غریبوں کا پلہ بھاری رہے گا۔ جب عوام کی اکثریت اتنی زیادہ ہو جائے گی تو ہو سکتا ہے حکومت کو جمہوریت کا خیال آ جائے اور اکثریت کی بات سننا شروع کر دے بہرحال جو بھی ہو اللہ بھلا کرے گا۔

جی ہاں امید ہے اگر حکومت ان کے متبادل پر غور کرے تو شاید معیشت کو سانس لینے کا کوئی موقعہ مل سکتا ہے۔ تیل، گیس کے نئے ذخائر کچھ دریافت ہو چکے ہیں اور کچھ مزید امکانات موجود ہیں۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور سولر انرجی سے فائدہ اٹھانے کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ غیر ضروری استعمال کم کرنا دراصل ایندھن پر درآمدی بل کو کم کرنا ہے۔ حکومتی نگرانی میں پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ سے زیادہ چلائی جائیں۔ اس سلسلے میں کئی سالوں سے حکومت سندھ نے کراچی کی سڑکوں پر بہت سی لال بسوں کا اضافہ کیا ہے لیکن بہت کم اسٹاپس کو شامل کیا گیا ہے۔

بہت سے لوگوںکا کہنا ہے کہ گلستان جوہر بلاک 2 کے قریب اہم ترین اسٹاپ ساسولی مارکیٹ کا مقرر کیا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ ’’مسجد نمرہ‘‘ کے قریب طاہر پارک کے قریبی اسٹاپ سے ہو کر ساسولی مارکیٹ کے اسٹاپ سے کامران چورنگی سے آگے شہر تک بسیں چلائی جائیں جس سے ہزاروں افراد مستفید ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں ان بسوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ لوگوں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہونے سے پٹرول کی کھپت میں بھی بچت ہوگی جس سے درآمدی بل میں کمی ہوگی، لیکن اصل کمی اس وقت ہوگی جب ہم ماہرین کی اس رائے پر غور ہی نہیں بلکہ عمل درآمد بھی کریں گے۔

ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہونے کے باعث سستا اور کم لاگت توانائی کا ذریعہ بن سکتا ہے، کیونکہ پڑوسی ہونے کے باعث نقل و حمل کی لاگت بہت ہی کم رہے گی بلکہ ایران سے ٹینکروں کے ذریعے سی پیک کے راستوں پر ڈال کر پاکستان کے ہر شہر تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح فوری ترسیل بھی ممکن ہے جہاں تک ریفائنری کا تعلق ہے تو گوادر میں ریفائنری منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے۔ اس طرح توانائی بحران میں کمی آئے گی۔ ایران سے بجلی خرید کر کراچی تک پہنچائی جائے تاکہ لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی جائے۔

ایران، پاکستان گیس پائپ لائن پر بحث و مباحثے کا سلسلہ ختم کرکے اسے آسان شرائط اور سستے نرخ پر پاکستان میں گیس لے کر آئیں، کیونکہ پاکستان کو توانائی کی سخت ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت ایک ایسے مسافر کی مانند ہے۔ تیل اور گیس کے بغیر جس کا حلق خشک ہو رہا ہے اور وہ ایرانی تیل و گیس کے سمندر کے کنارے کھڑا ہے مگر پیاس بجھانے کے لیے عالمی سیاست کے بھنور سے گزرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے، اگر ایسے ہی کھڑے رہیں گے ہمت نہیں کریں گے تو اسی طرح معاشی مسائل، درآمدی بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے ، حکومت فوری غور کرے کہ کس طرح ایرانی تیل و گیس کے ذخائر سے استفادہ کر سکتے ہیں۔