اسکیم 33 میں اراضی پر مبینہ قبضے کا تنازعے سے متعلق سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

عدالت نے ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او سچل کے جوابات غیر تسلی بخش قرار دیدیئے


کورٹ رپورٹر July 02, 2026

سینیئر سول جج ملیر نے اسکیم 33 میں اراضی پر مبینہ قبضے کا تنازعے سے متعلق سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او سچل کے جوابات غیر تسلی بخش قرار دیدیئے۔

عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا حکم دیدیا۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر اور ایس ایچ او سچل ولایت شاہ کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروایا گیا۔ پولیس افسران نے جواب میں کہا ہے کہ ناظر اور سرکاری افسران پر فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

عدالتی احکامات پر عملدرآمد کردیا گیا ہے، شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے ناظر کو ریسیور مقرر کرتے ہوئے پولیس حکام کو متنازع جائیداد کا قبضہ دلوانے کے لئے مناسب نفری فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

2 جون کو عدالتی ناظر، پولیس اور ریوینیو افسران کے پہنچنے پر مبینہ غیر قانونی قابضین نے فائرنگ کی۔ عدالتی ناظر نے فوری طور پر اطلاع سچل تھانے میں درج اور ایس ایس پی ایسٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا۔

24 جون کو عدالت نے دوبارہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا حکم دیا۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نا کرنے پر دونوں افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

ایس ایچ او کا وقوعہ تعیناتی سے قبل پیش آنے کا موقف قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ عدالتی احکامات کے بعد ایس ایچ او پر بلا تاخیر عملدرآمد لازم تھا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق آرٹیکل 190 کے تحت انتظامی اور عدالتی ادارے اعلیٰ عدلیہ کی معاونت کے پابند ہیں۔

سرکاری ملازم پر لازم ہے کہ نظام انصاف میں رکاوٹ کے بجائے معاونت کرے۔ ضلعی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ایس ایس پی ایسٹ پر لازم تھا کہ وہ ماتحت افسران سے عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کراتے۔

ایس ایس پی کے جواب میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نا ہونے کی وضاحت موجود نہیں۔ ایس ایس پی وضاحت نہیں دے سکے کہ ایسی کونسی رکاوٹ تھی جس نے احکامات پر عمل سے روکا۔ پولیس افسران کو عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ قانون کی حکمرانی، امن و امان قائم رکھنا اور عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے۔

عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی قانون کی حکمرانی اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ مبینہ غیر قانونی قابضین کی ناظر اور سرکاری حکام پر فائرنگ محض فوجداری واقعہ نہیں، عدالتی نظام اور اتھارٹی پر براہ راست حملہ ہے۔

مبینہ قابضین نے قانون کی عملداری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔ متعلقہ پولیس نے فوری کارروائی کے بجائے قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ پولیس کی کارروائی نا کرنے سے قانون شکنی کی حوصلہ افزائی ہوئی اور عدالتی وقار کو نقصان پہنچا۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او سچل کا عدالتی احکامات پر عملدرآمد نا کرنا سنگین غفلت ظاہر کرتا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی 7 یوم میں عدالتی احکامات پر موثر عمل درآمد کے لئے مناسب انتظامات کریں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی ذمہ دار پولیس افسران محکمانہ قواعد کے تحت کارروائی شروع کریں۔ سچل تھانے میں ایس ایچ او کی تبدیلی پر غور کرتے ہوئے ذمہ دار افسر کو تعینات کیا جائے۔ سچل تھانے میں قانون کی حکمرانی اور نظام انصاف کے احترام کو یقینی بنانے والے افسر کو تعینات کیا جائے۔