شام کے دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں واقع ایک مصروف کیفے میں زور دار دھماکا ہوا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دھماکا قصرِ انصاف کے قریب واقع ایک کیفے میں نصب بم پھٹنے سے ہوا۔ دھماکے کے وقت شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث 5 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو سیل کرکے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم پہلے سے کیفے میں نصب کیا گیا تھا تاہم حملہ آوروں کی شناخت یا دھماکے کے محرکات کے بارے میں فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی۔
BREAKING | Explosion in a coffee shop near the Justice Palace in Damascus, Syria. pic.twitter.com/qkbD7x28sf
— The Cradle (@TheCradleMedia) July 2, 2026
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب شام میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔
دسمبر 2024 میں باغی اتحاد کے سربراہ احمد الشرع کی قیادت میں اپوزیشن فورسز نے دمشق پر کنٹرول حاصل کیا تھا جس کے بعد 14 سالہ خانہ جنگی عملاً اپنے اختتام کو پہنچی اور احمد الشرع ملک کے عبوری صدر بن گئے۔
شامی حکام نے حملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ سیکیورٹی اداروں کو دارالحکومت میں حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔