قرآنی واقعات (دوسرا اور آخری حصہ)

حضرت یوسفؑ ’’کنعان‘‘ کے رہنے والے تھے، اسی نسبت سے انھیں ’’ماہِ کنعاں‘‘ یعنی کنعان کا چاند بھی کہا جاتا ہے۔


رئیس فاطمہ July 03, 2026

حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ:-

 حضرت یوسفؑ کا قصہ قرآن کریم کی سورۂ یوسف میں بیان کیا گیا ہے اور اسے قرآن میں ’’احسن القصص‘‘ (بہترین قصہ کا نام دیا گیا ہے) یہ قصہ حسد، صبر، آزمائش، پاک دامنی کی ایک جامع داستان ہے۔ حضرت یوسفؑ کے والد کا نام حضرت یعقوبؑ تھا، آپ بہت خوبصورت اور خوب سیرت تھے، اس لیے حضرت یعقوبؑ حضرت یوسفؑ کو زیادہ چاہتے تھے جس کی وجہ سے حضرت یوسفؑ کے سوتیلے بھائی ان سے حسد کرتے تھے۔ حضرت یوسفؑ کا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا جس کا نام ’’بن یامین‘‘ تھا۔ بچپن میں حضرت یوسفؑ نے ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند انھیں سجدہ کر رہے ہیں۔

حضرت یعقوبؑ نے ان کا خواب سنا تو سمجھ گئے کہ یوسفؑ مستقبل میں نبوت اور اعلیٰ منصب پر فائز ہوں گے۔ اس لیے انھوں نے انھیں تاکید کی کہ اس خواب کا ذکر وہ کسی سے خصوصاً اپنے سوتیلے بھائیوں سے نہیں کریں گے۔ حضرت یوسفؑ کے سوتیلے بھائیوں نے انھیں راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی اور والد سے کہا کہ وہ یوسفؑ کو گھمانے لے جانا چاہتے ہیں، وہ انھیں سیر کے بہانے جنگل میں لے گئے جہاں انھیں ایک گہرے کنویں میں پھینک دیا اور یوسف علیہ السلام کی قمیص اتار لی اور اس پر جانور کا خون لگا کر والد کے پاس آئے اور جھوٹ موٹ روتے ہوئے باپ سے کہا کہ یوسفؑ کو بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوبؑ نے ان کی باتوں پر یقین نہیں کیا لیکن صبر کی چادر اوڑھ لی اور اللہ سے یوسفؑ کے لیے خیر مانگی۔

کنویں کے پاس ایک قافلہ آ کر رُکا اور اس نے جب پانی نکالنا چاہا تو یوسفؑ نظر آئے، انھوں نے جدوجہد کرکے انھیں کنویں سے باہر نکالا اور مصر لے جا کر غلاموں کے بازار میں بہت کم قیمت پر بیچ دیا۔ جس شخص نے انھیں خریدا وہ مصر کا وزیر خزانہ تھا جسے ’’عزیز مصر‘‘ کہا جاتا تھا۔ عزیز مصر حضرت یوسفؑ کو گھر لے آیا جہاں اس کی بیوی زلیخا بھی تھی۔ حضرت یوسفؑ جب جوان ہوئے تو وہ حسن و جمال کا پیکر تھے، ان کا حسن اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا، زلیخا حضرت یوسفؑ پر عاشق ہو گئی اور اس نے انھیں بہکانے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس کی حوصلہ افزائی نہ کی، لیکن وہ ان کے عشق میں دیوانی ہو گئی تھی۔

مصر کے اعلیٰ خاندان کی عورتوں میں جب یہ بات پہنچی کہ زلیخا اپنے غلام کے عشق میں پاگل ہو گئی ہے تو انھوں نے بڑی باتیں بنائیں، جو زلیخا تک بھی پہنچ گئیں۔ اس نے ایک دن شہر کی ان معزز عورتوں کو محل میں بلایا اور ان کے ہاتھ میں ایک چھری اور ایک نیبو دے دیا اور کہا کہ میں یوسف کو اندر بلاؤں گی تم لوگ اسے دیکھتے ہی چھری سے نیبو کاٹ دینا۔ ساری عورتیں یوسفؑ کو دیکھنے کے لیے بے چین تھیں، زلیخا نے حضرت یوسفؑ سے کہا کہ وہ دروازے سے نکل کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں۔ حضرت یوسفؑ جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے ساری عورتیں ان کا حسن دیکھ کر ششدر رہ گئیں اور بے دھیانی میں نیبو کی بجائے اپنی انگلیاں کاٹ کر زخمی کر لیں، زلیخا نے ان سے کہا یہی وہ غلام ہے جس کے عشق میں، میں پاگل ہوں۔

زلیخا نے کئی بار حضرت یوسفؑ کو بہکایا لیکن وہ خوف خدا کی وجہ سے اس کی طرف مائل نہ ہوئے۔ ایک بار اس نے حضرت یوسفؑ کا دامن پکڑ کر بھی بات کرنی چاہی۔ دامن پیچھے سے پھٹ گیا، اپنی بے عزتی دیکھ کر زلیخا آپے سے باہر ہو گئی اور اس نے حضرت یوسفؑ کے کردار پر تہمت لگا دی کہ یہ مجھ سے دست درازی کر رہا تھا، اسی لیے میں نے اس کا دامن پھاڑ دیا۔ عزیز مصر تک بات پہنچی تو اس نے اپنے چچا زاد بھائی سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا کہ یوسفؑ کا دامن اگر آگے سے پھٹا ہے تو یوسف قصور وار ہے اور اگر دامن پیچھے سے پھٹا ہے تو زلیخا قصوروار ہے۔ عزیز مصر نے یوسفؑ کو بلایا تو ان کا دامن پیچھے سے پھٹا ہوا تھا، لیکن بدنامی کے ڈر سے اس نے حضرت یوسفؑ کو جیل میں ڈال دیا۔

جیل میں آپؑ نے بادشاہ کے دو ملازموں کے خوابوں کی سچی تعبیر بتائی جس میں انھوں نے کہا کہ ایک ملازم کو پھانسی ہوگی اور دوسرا بری ہو جائے گا۔ ویسا ہی ہوا، تب حضرت یوسفؑ کی شہرت مصر کے بادشاہ تک بھی پہنچی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ سات دبلی گائیں، سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں، جس کی تعبیر کسی کو معلوم نہ تھی۔ بادشاہ نے حضرت یوسفؑ کو بلوایا اور ان سے خواب کی تعبیر پوچھی تو انھوں نے کہا کہ سات سال خوب بارش ہوگی اور پھر سات سال شدید قحط پڑے گا، اس لیے پہلے سات سال بڑی مقدار میں اناج ذخیرہ کیا جائے تاکہ قحط سالی میں کام آ سکے۔ بادشاہ آپ کے علم سے بہت متاثر ہوا اور انھیں مصر کا وزیر خزانہ بنا دیا۔

حضرت یوسفؑ ’’کنعان‘‘ کے رہنے والے تھے، اسی نسبت سے انھیں ’’ماہِ کنعاں‘‘ یعنی کنعان کا چاند بھی کہا جاتا ہے۔ قحط کے زمانے میں حضرت یوسفؑ کے بھائی بھی کنعان(فلسطین) سے مصر آئے۔ حضرت یوسفؑ نے انھیں پہچان لیا، مگر بھائیوں نے انھیں نہیں پہچانا۔ ان کے بھائی غلہ لینے آئے تھے، انھوں نے بھائیوں سے کہا کہ اگلی بار آؤ تو بن یامین کو بھی ساتھ لانا۔ بھائیوں نے ایسا ہی کیا، تب حضرت یوسفؑ نے ان پر اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔

حضرت یوسفؑ نے انھیں معاف کر دیا اور اپنی قمیص دے کر ان سے کہا کہ اس قمیص کو حضرت یعقوبؑ کی آنکھوں سے لگانا۔ انھوں نے واپس جا کر ایسا ہی کیا۔ حضرت یعقوبؑ کی بینائی واپس آ گئی اور وہ اپنے بیٹے سے مل کر بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر سارا خاندان مصر آ گیا اور حضرت یوسفؑ کے خواب کے مطابق والدین اور بھائیوں نے انھیں سجدہ کیا۔ یہ قصہ یہ سب سکھاتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے ہر آزمائش میں پورے اترتے ہیں۔ نیک بندے کتنی ہی آزمائشوں سے گزریں آخر کار جیت سچائی اور صبر کی ہوتی ہے۔

یاجوج ماجوج اور ذوالقرنین کا قصہ:-

 قرآن کریم کی سورۂ کہف آیت نمبر 94 تا 98 میں ان کا تذکرہ ملتا ہے۔ یاجوج ماجوج کا قصہ قرآن کریم اور احادیث نبوی میں بیان کردہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ یہ دو وحشی اور فسادی انسانی قبائل ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے ’’یافِث‘‘ کی نسل سے ہیں۔ حدیث کے مطابق یہ اپنی وحشیانہ فطرت اور فساد کی وجہ سے مشہور ہیں۔ قیامت کے دن دوزخ میں جانے والوں میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ یہ لوگ پہاڑوں کے پیچھے رہتے ہیں اور ان کی کثرت کا یہ حال ہے کہ جب یہ کہیں سے گزریں گے تو جھیل طبریہ کا سارا پانی پی جائیں گے، یہ عام انسانوں کی طرح ہیں، لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ تاریخ میں ایک نیک دل بادشاہ کا ذکر ملتا ہے جو بہت رحم دل اور عادل تھا۔

ایک دفعہ اپنے تیسرے سفر کے دوران ان کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو پہاڑوں کے درمیان تھی، وہاں ایک قوم آباد تھی جو یاجوج ماجوج کے ظلم و ستم اور ان کے مظالم سے سخت تنگ تھی، ان لوگوں نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ وہ یاجوج ماجوج کو روکنے کے لیے ایک مضبوط دیوار بنا دیں۔ ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے منگوائے اور انھیں پہاڑوں کے درمیان رکھ کر آگ دہکائی جب لوہا سرخ ہو گیا تو اس پر پگھلا ہوا تانبہ ڈالا گیا جس سے ایک انتہائی مضبوط اور ناقابل تسخیر دیوار تعمیر ہوئی۔ کہا جاتا ہے یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کو کھودتے ہیں لیکن شام کو جب وہ واپس جاتے ہیں تو دیوار اللہ کے حکم سے دوبارہ ویسی ہی ہو جاتی ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ جب اللہ کا حکم آئے گا تو وہ کہیں گے ’’باقی کل کھودیں گے۔‘‘ اگلے دن وہ اسے کھود کر باہر نکل آئیں گے۔ یاجوج ماجوج دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰؑ کے نازل ہونے کے بعد نکلیں گے۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ہر طرف پھیل جائیں گے۔ وہ زمین پر شدید فساد مچائیں گے۔ مسلمان ان کے خوف سے کوہ طور پر پناہ لیں گے۔ آخر کار حضرت عیسیٰؑ کی دعا پر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ’’نغف‘‘ (ایک طرح کا کیڑا) پیدا کر دیں گے جس سے وہ سب ایک ہی رات میں اچانک مر جائیں گے۔ ان کی لاشوں سے بدبو پھیل جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندے اور بارش آ کر زمین کو پاک صاف کر دیں گے۔ ذوالقرنین بادشاہ نے دیوار تعمیر کروانے کے بعد کہا تھا ’’یہ میرے رب کی رحمت ہے، مگر جب میرے رب کا وعدہ (قیامت) آئے گا تو وہ اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔‘‘

تاریخی شناخت کے بہ موجب بہت سے محققین کا خیال ہے کہ یہ عظیم بادشاہ جو فارس کا رہنے والا تھا، سائرس اعظم (Cyrus The Great) ہو سکتے ہیں جوکہ ایک عادل اور نیک حکمران تھے۔ انھیں فارسی میں ’’کوروش بزرگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم ایران کے نجاشی خاندان کے بانی ہیں اور تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر بادشاہوں میں سے ایک تھے۔ ان کا دور حکومت نہ صرف فتوحات بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے، وہ ایک عادل اور عظیم حکمران تھے۔