بھارتی سکھ تنظیم دل خالصہ نے پاکستان اور بھارت کے ممتاز سیاست دانوں، سابق سفارت کاروں اور سول سوسائٹی رہنماؤں کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی مشترکہ اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کرتارپور صاحب راہداری کے ساتھ واہگہ ۔ اٹاری سرحد کو بھی تجارت اور مذہبی یاترا کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دل خالصہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارت اور پاکستان کی 116 ممتاز شخصیات جن میں بھارت سے 61 اور پاکستان سے 55 افراد شامل ہیں، نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے، تجارت اور سفری روابط بحال کیے جائیں اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مشترکہ خط پر جموں و کشمیر کے اعتدال پسند علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق، جموں و کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ اور بھارتی خفیہ ادارے "را" کے سابق سربراہ سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔
دل خالصہ کے رہنما کنور پال سنگھ نے کہا کہ خط میں کرتارپور صاحب راہداری دوبارہ کھولنے کے مطالبے کا خیرمقدم کیا گیا ہے، تاہم دونوں حکومتوں کو واہگہ۔اٹاری سرحد بھی مذہبی یاترا، تجارت اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے کھولنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مضبوط ہوں گے اور خطے میں اعتماد کی فضا بہتر ہوگی۔
بیان کے مطابق مشترکہ خط میں جموں و کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کی بحالی، 2004 سے 2007 کے دوران طے پانے والے مذاکراتی فریم ورک پر دوبارہ غور، عسکری موجودگی میں کمی اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے۔ دل خالصہ کے مطابق اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ان تجاویز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کنور پال سنگھ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے مثبت پیش رفت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو پاکستان کے حوالے سے سخت گیر پالیسی ترک کرتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں تاکہ دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کے بقول جنوبی ایشیا کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار بھارت اور پاکستان کے درمیان پرامن تعلقات پر ہے، جبکہ پنجاب میں دیرپا امن بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔