جو دیکھے گا وہی سیکھے گا

تربیت کا راستہ خود احتسابی کے کڑے راستے سے گزرتا ہے


سہیل یعقوب July 04, 2026

سماجی ذرائع ابلاغ کے آنے کے بعد لوگ اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے خاصے پریشان رہنے لگے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی پریشانیوں کا حل مجھے چند دن پہلے سماجی ذرائع ابلاغ پر ہی ملا ہے، تو میں نے سوچا کہ اس حل کو سب کے ساتھ اشتراک کرلیتے ہیں، شاید کسی کا فائدہ ہوجائے۔

ہمارے پڑوسی ملک کی ایک فلم ہے ’’فراری کی سواری‘‘۔ یہ فلم باپ بیٹے کی کہانی ہے۔ فلم کے ایک سین میں باپ اپنے بیٹے کو اسکوٹر پر کہیں لے جارہا ہوتا ہے تو غیرارادی یا حادثاتی طور پر وہ سگنل یا اشارے کے سرخ ہونے کے باوجود اپنا اسکوٹر گزار جاتا ہے۔ بیٹا فوراً نشاندہی کرتا ہے کہ آپ نے اشارہ کاٹا ہے۔ باپ فوراً پریشان ہوکر کہتا کہ ارے یہ میں نے کیا کردیا۔ وہ فوراً بیٹے سے کہتا ہے کہ دیکھو ٹریفک پولیس کا کوئی سپاہی ہے؟ تو بیٹا کہتا ہے کہ نہیں اشارے کے پاس کوئی سپاہی نہیں ہے۔

باپ اسکوٹر اگلے چوراہے یا اشارے پر لے جاتا ہے۔ وہاں ٹریفک کا ایک حوالدار موجود ہوتا ہے لیکن اپنے کسی کام میں مصروف ہوتا ہے۔ باپ جاکر سب سے پہلے اسے صبح بخیر کہتا ہے جس کا جواب حوالدار خاص پولیس کے انداز سے دیتا ہے۔ باپ اپنے آنے کا مقصد بیان کرتا ہے کہ میں نے پچھلے چوراہے پر اشارہ کاٹا ہے اور میں جرمانہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر حوالدار پوچھتا ہے کہ کیا پچھلے چوراہے پر کوئی ٹریفک کا سپاہی نہیں تھا؟ اس پر باپ جواب دیتا ہے کہ نہیں چوراہے پر کوئی سپاہی نہیں تھا۔ اس پر حوالدار پوچھتا ہے کہ پھر تیرے کو روکا کس نے؟ اس پر باپ جواب دیتا ہے کہ مجھے کسی نے نہیں روکا۔ اس پر حوالدار کہتا ہے کہ، تو بولتا ہے تونے اشارہ کاٹا اور چوراہے پر پولیس کا کوئی حوالدار بھی نہیں تھا تو پھر نکل جانا تھا، کیا فرق پڑتا ہے تیرے کو کسی نے دیکھا تو نہیں۔ اس پر باپ کہتا ہے کہ دیکھا نا، حوالدار پوچھتا ہے کس نے، اس پر باپ کہتا ہے میرے بیٹے نے مجھے دیکھا۔ اس موقعے پر کیمرہ بیٹے پر فوکس کرتا ہے۔ اس کے بعد باپ کہتا ہے کہ میرے بیٹے نے مجھے دیکھا اور جو وہ دیکھے گا وہی تو وہ سیکھے گا۔ اس سین کو آج کل وہاں ٹریفک کے اشارے کی اہمیت اور تربیت کےلیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اس ایک جملے میں ’’جو وہ دیکھے گا وہی تو وہ سیکھے گا‘‘ میں ساری تربیت کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اس کہانی یا تربیت کا راستہ خود احتسابی کے کڑے راستے سے گزرتا ہے اور من حیث القوم ہم نے ہمیشہ دوسروں کے احتساب پر زور دیا ہے اور خود کو ہمیشہ پاک اور پوتر مانا اور سمجھا ہے۔ اگر آپ کو اس پر یقین نہ آئے تو صبح اسکول کے شروع ہونے کے اوقات میں کسی بھی اسکول کے باہر کھڑے ہوجائیں اور پھر تماشا دیکھئے۔ تقریباً تمام ہی والدین، ڈرائیور حضرات حتیٰ کے اساتذہ بھی تمام ٹریفک کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور کچھ موقعوں پر تو یک طرفہ ٹریفک کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وقت پر اسکول پہنچنے کی کوششوں میں مصروف نظر آئیں گے، جس کے نتیجے میں اسکول کے اردگرد ایک عجیب طوفان بدتمیزی رواں ہوتا ہے۔ اس کے بعد جماعت میں جاکر یہی اساتذہ نظم و ضبط کی تعلیم دیتے ہیں اور والدین بچوں کو اسکول چھوڑ کر مطمئن گھر کی جانب چل دیتے ہیں کہ اب ان کا لال نیلا پیلا ہوکر معاشرے کا ایک کامیاب فرد اور قانون پسند شہری بننے گا۔ حالانکہ کامیاب اور قانون پسند الفاظ آپس میں خود متضاد ہیں۔

ہم ہر غلط کام اپنے بچوں کے سامنے کرتے ہیں اور جب وہی کام بچے ہمارے سامنے کرتے ہیں تو ہم جدید ایجادات اور سماجی ذرائع ابلاغ کو الزام دیتے ہیں، حالانکہ ہم سب کو پتہ ہوتا ہے الزام کس کو دینا چاہیے اور مجرم کون ہے، لیکن اتنا سچ کون سن سکتا ہے ہم تو صرف سچ بولنا جانتے ہیں وہ بھی اگر دوسروں کے بارے میں ہوں۔ سچ سننے کے معاملے میں تو روای عموماً یا تو خاموش ہوتا ہے یا پھر ڈیوٹی پر نہیں ہوتا ہے اور بچے کے ہاتھ کہلوا دیا ہوتا ہے کہ ’’ابا نے کہا ہے کہ آج وہ بیمار ہیں اور کام پر نہیں آسکیں گے‘‘۔ اس ایک جملے میں بھی ماضی کے کئی راز اور تربیت کے بےشمار گوشے پوشیدہ ہیں۔

ایک ٹرین میں جب لوگوں نے ایک ماں اور بیٹی دونوں کو کتاب پڑھتے دیکھا تو ماں سے پوچھا کہ آپ نے بیٹی کے ہاتھ میں کتاب کیسے تھمائی؟ اس پر ماں نے کہا کہ میں نے بیٹی کے ہاتھ کتاب نہیں تھمائی بلکہ میں نے خود کتاب تھامی اور میری بیٹی نے میری تقلید میں خود اپنی مرضی سے کتاب اٹھائی۔

اس کے مقابلے میں ہمارے یہاں بچوں سے جو کام کروائے جاتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے آگے نہیں آئیں گے، جبکہ ایسا نہیں ہوتا، جو بویا جاتا ہے وہ کاٹنا تو پڑتا ہے۔ اس پر ایک کہانی اور اختتام۔

ایک بڑے صاحب کو ان کے بیٹے اور بہو نے ان کی بیماری کے پیش نظر گیراج میں منتقل کردیا تھا۔ جب سردی آئی تو بیٹے کو خیال آیا ایک پرانا اور بوسیدہ کمبل پڑا ہوا ہے وہ اپنے والد کو بھج دیتا ہوں تاکہ وہ سردی سے بچاؤ کرسکے۔ باپ نے بیٹے سے کہا کہ وہ ڈبے سے پرانا کمبل نکال کر دادا کو دے آئے۔ جب تھوڑی دیر بعد باپ دیکھنے گیا تو اس کے والد کے پاس آدھا کمبل پڑا تھا۔ جب اس نے اپنے بیٹے سے استفسار کیا تو بیٹے نے کہا کہ میں نے آدھا کمبل آپ کےلیے رکھ لیا۔ اب آپ کے بڑھاپے میں بھلا اتنا پرانا کمبل میں کہاں ڈھونڈنے جاؤں گا۔ اس میں سمجھنے والوں کےلیے نشانیاں ہیں۔ اب اگلی دفعہ آپ کچھ ایسا ویسا کررہے ہوں اور اگر آپ کا بیٹا آپ کو دیکھ رہا ہو تو پھر مستقبل کو بھی آپ خود ہی دیکھ لیجئے گا ورنہ خوامخواہ کسی اور کو الزام کےلیے ڈھونڈنا پڑے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
سہیل یعقوب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔